ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 117
ہوگئے۔اِس فرمان سے وہ قبیح رسم دفع ہوگئی جو عرب میں رائج تھی کہ مظلوم ظالم سے انتقام لینے میں اپنی ذاتی قویٰ یا اپنے اعزہ کی طاقت پر بھروسہ کرتاتھا۔دادرسی اور عدل گستری جنگ وجدل پرموقوف تھی۔ابن ہشام صفحہ ۷۸ا و لائف آف محمدؐ صفحہ ۷۲۔یہود بڑے قسی القلب تھے۔چونکہ وہ اعلیٰ درجے کے تعلیم یافتہ بھی تھے اور عقیل بھی۔اور فرقہ ٔ منافقین سے اُن کو اتفاق تھا اور باہمی بھی یہود میںاتفاق تھا (برخلاف عرب جن میں باہمی سخت نااتفاقی تھی) لہٰذا وہ نہایت خطرناک دشمن اِس جمہوری سلطنت کے تھے جو شارع اسلام کے زیر حکومت قائم ہوئی تھی۔ناتربیت یافتہ قوموں میں شاعروں کا وہی مرتبہ ہوتا ہے اور شاعر وہی اقتدار رکھتے ہیں جو اہل اخبار مہذب قوم میں۔شعرائے یہود چونکہ نہایت ذی علم اور ذی شعور تھے لہٰذا اہل مدینہ پر بڑے حاوی تھے۔اِس قوت کو اُنہوں نے اِس میں صَرف کیا کہ مسلمانوں میں نفاق ڈالنے لگے اور اُن میں اور فریق مخالف میں بُغض و عداوت کو ترقی دینے لگے۔بلکہ مَیں کہتا ہوں باہم اہل اسلام میں اختلاف و عناد کا بیج بوتے تھے۔شاس بن قیس یہودی نے ایک بار دیکھا کہ انصار مسلمان (مدینے کے اصل باشندے) باہم کمال محبت و اتفاق سے بیٹھے ہیں اور خیال کیا یہ وہی گروہ اوس اور خزرج کا ہے جو ہمیشہ جنگ و جدل میں بسر کرتے تھے اب بالکل شیروشکر ہیں اور اسلام کی پاک تعلیم کی بدولت کمال اتحاد اور اخوت کے ساتھ ملے جلے ہیں۔اِس اتفاق کو دیکھ شاس کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور ایک جوان یہودی سے کہا تو ان میں بیٹھ جا اور باتوں باتوں میں بعاث۱؎ کی لڑائی کا قصہ چھیڑ دے اور وہ اشعار پڑھ سنا جو اُس وقت پڑھے گئے تھے۔غرض اُس بدذات نے وہی کرتوت شروع کئے۔آخر وہ نئے نئے اپنی قدیمی چال پر آگئے اورباہم کہنے لگے آئو اِس معاملے کو نیا کر دکھلائیں۔خلاصہ کلام حرہ نام جگہ مقام جنگ تجویز ۱؎ باہم اوس اور خزرج کے ایک سخت جنگ ہوئی تھی اور اُس میں سینکڑوں آدمی اور امراء مارے گئے تھے اور کھیت اوس کے ہاتھ رہا تھا۔۱۲