ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 114
آیت ۷۔۔میں بھی اپنے دوستوں کو تاکید کرتا ہوں کہ چوکس ہو کر رہو۔مومن کو چاہئے کہ دشمن سے کبھی بے خبر نہ ہو۔آیت ۹۔۔خدا تعالیٰ کی ہدایت پر چلنے والوں کا یہ نشان بتلایا گیا ہے کہ ان پر حزن و خوف نہیں۔ والی دعا کا یہ نتیجہ ہے۔یہ آیت قابل نوٹ ہے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی حالت کو اس کے مطابق پر کھیں اور دیکھیں کہ آیا وہ اس درجے کو پہنچے ہیں یا کہ نہیں۔کیا مسلمانوں میں اب خوف و حزن نہیں۔رکوع ۵ آیت ۵۔۔یہ غلط ہے جو کہا گیا ہے کہ عقل جو ہر ہے۔عقل جو ہر نہیں بلکہ ایک صفت ہے۔قرآن شریف میں آیا ہے۔(الحج:۴۷)۔عقل کے معنے ہیں روکنا اور باندھنا۔جو شخص حکم سن کر پھر نہیں رکتا وہ لایعقل ہے۔۱۵؍اگست ۱۹۱۲ء جمعرات بعد نما زظہر مسجد اقصیٰ میں درس قرآن شریف شروع ہوا۔درس دینے سے قبل حضرت نے فرمایا۔جو لوگ ملازم ہیں وہ اپنی ملازمت پر چلے جائیں۔اپنے فرض منصبی کا حرج نہ کریں ورنہ ان کا مال طیب نہ رہے گا۔درس کی خاطر اپنی نوکری کا نقصان نہ کرو۔اللہ تعالیٰ نیک آدمی کو ضائع نہیں کرتا۔خدا تعالیٰ یہ درس تمہارے کانوں سے کسی اور ذریعہ سے نکلوا دے گا۔جو لوگ دوکاندار ہیں ان کو بھی اپنی دکان کی فکر کرنی چاہئے۔ہماری طرف سے اجازت ہے ایسے لوگ چلے جائیں۔ہم تو ہمیشہ درس دیتے ہی رہتے ہیں وہ دوسرے اوقات میں سن سکتے ہیں۔آج کے حصہ درس ( پہلا پارہ رکوع ششم سے شروع کر کے آخر تک ) میں یہ بتلایا گیا ہے کہ بندہ مغضوب کس طرح بنتا ہے۔گویا قرآن شریف کی آیت کی تفسیر ہے۔بعض لوگ ایسے بد نصیب ہوتے ہیں کہ مُنْعَمْ عَلَیْہ بن کر پھر مَغْضُوْب عَلَیْہِمْ ہو جاتے ہیں۔