ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 113 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 113

ترتیب۔اس سورۂ شریف میں سب سے اوّل ایمانداروں کا ذکر ہے۔پھر وہ جو کافر ہوئے۔اُس کے بعد منافقوں کا ذکر ہے۔پہلے علمی رنگ میں ان امور کا ذکر تھا اس کے بعد نام لئے گئے۔پہلے آدم ؑ کا ذکر ہے پھر ابلیس کا۔درمیان میں اعتراض کرنے والوں کی غلطی کا اظہار ہے۔مخلوق دو قسم کی ہے۔ایک وہ جو نور کے ساتھ تعلق رکھتی ہے ان میں ملائکہ ہیں، نیک لوگ ہیں اور تمام مفید اور بابرکت اشیاء ہیں۔دوسری جو ظلمت سے تعلق رکھتی ہیں۔ان میں ابلیس ہے شریر لوگ ہیں اور تمام موذی جانور اور ضرر دینے والی اشیاء ہیں۔بعض شریر آدمیوں کو بھی قرآن شریف میں شیطان کہا گیا ہے۔مثلاً (البقرۃ :۱۵) جبکہ اپنے سرداروں شیطانوں کی طرف علیحدہ ہوتے ہیں۔خدا کے نیک بندوں کو فرشتہ کہا جاتا ہے۔حضرت یوسف کے متعلق مصر کی عورتیں بول اُٹھیں۔(یوسف : ۳۲)۔یہ انسان نہیں یہ تو صرف فرشتہ ہی ہے۔( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک دفعہ مولوی شیر علی صاحب بی اے کے متعلق فرمایا تھا کہ شیر علی تو فرشتہ ہیں۔ایڈیٹر ) بعض جگہ میں نے ملک کا ترجمہ نیک بندے یا شیطان کا ترجمہ شریر لوگ کیا ہے۔اس سے کسی کو یہ دھوکہ نہ لگے کہ میں فرشتے یا شیطان کے وجود کا قائل نہیں ہوں۔میں ان کے علیحدہ وجود کو مانتا ہوں لیکن ان کے مظاہر بندوں میں اور دیگر اشیاء میں بھی ہوتے ہیں۔آیت ۵۔۔تکبر اورابٰیبہت برا مرض ہے او رآجکل کثرت سے پھیلا ہوا ہے۔فرمانبرداری بہت کم رہ گئی ہے۔فضولی، سُستی اور ساتھ ہی تکبر بہت بڑھ گیا ہے اور یہ زیادہ تر یورپ سے سیکھا گیا ہے۔افسوس ہے کہ ہمارے لوگ یورپ کی نیکیاں نہیں لیتے اور ان کی بدیاں اختیار کرتے ہیں۔آیت۶۔شجرۃ۔جھگڑے کو بھی کہتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ کسی جھگڑے کی بات میں نہ پڑو۔نسل بڑھانے کو بھی شجرہ کہتے ہیں۔اسی واسطے شجرۂ نسب ہوتا ہے۔اور شجرہ کے معنے ہیں درخت۔