ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 74 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 74

دینیات اور دینی مدرسہ کی تعلیم حضرت خلیفۃ المسیح نے اُسی روز جبکہ قوم کے لوگوں نے یہ لکھ کر حضور کے سامنے پیش کیا کہ ’’آپ کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو گا جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کا تھا۔‘‘ آپ نے اپنی پہلی تقریر میں ہی فرمایا تھا کہ تعلیم دینیات اور دینی مدرسہ کی تعلیم میری مرضی اور منشاء کے مطابق کرنا ہو گی۔منہ۔( الحکم جلد ۱۳ نمبر۴ مورخہ ۲۸؍جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ۱۰) سوالات اور ان کے جوابات (ا)سوال۔بدعت کی جامع مانع تعریف؟ جواب۔میرے نزدیک و میری تحقیق میں بدعت حقیقہ کے یہ معنے ہیں جو عقیدہ و عبادت و عادت و معاملہ عہد مبارک نبوی اور صحابہ و تابعین میں خود آپ یا اس کی نظیر با وجود ضرورت و وقت بلاانکار مروج نہیں ہوا اور ایسے امر کا مرتکب اس کام کو معادمیں مفید سمجھے اور اس کے فعل یا ترک کو شرط و لازمہ عقیدہ و عبادت و عادت و معاملہ کرے یا کالشرط اللوازم اسے ضرور سمجھے تو وہ عقیدہ و عبادت وعادت ومعاملہ بدعت حقیقیہ ہے۔(۲)سوال۔امام الصلوٰۃ کو بعد از اذان جماعت کرانے کے لئے بلانے جانا سنت سے ثابت ہے یا یہ صرف مامور من اللہ کا حق ہے اور کیا جب تک کوئی اطلاع نہ جائے امام نہ آئے؟ جواب۔اس کا جواب اس میں آ گیا حضرت نبی کریم ﷺ کو بخلاف آیت کریمہ(الحجرات: ۵) بلایا جاتا تھا اس میں مامور من اللہ کی قید کا کوئی باعث نہیں۔(۳)سوال۔نماز میں پہلی رکعت میں سورہ النصر پڑھیں تو کیا دوسری میں ایک سورۃ چھوڑ کر اگلی سورۃ قل ھواللّٰہ پڑھ سکتے ہیں ؟