ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 501 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 501

معاملہ میں بہت احتیاط کرے اور سوچ لے کہ ایسے معاملات میں بات کرنے کی شریعت نے کہاں تک اسے اجازت دی ہے۔خدا سے کچھ مخفی نہیں فرمایا۔کوئی کام کرو ظاہر یا چھپ کر خداوند تعالیٰ سے کوئی مخفی نہیں ہے۔ہر عورت کو گھر میں نہ آنے دو فرمایا۔شریعت نے اجازت نہیں دی کہ ہر قسم کی عورت ہمارے گھروں میں اس واسطے چلی آیا کرے کہ وہ عورت ہے بلکہ صرف اپنے طرز کی عورتوں کے واسطے گھر میں آنے کی اجازت ہے۔آنحضرتؐ کے احسان فرمایا۔ہم نے طب کی کتابوں میں پڑھا ہے ایک مرض یا حالت ہوتی ہے جس کا نام یقضٰیٔ نومی۔جس میں انسان ماں کے پیٹ میں سنی ہوئی یا اس کی گودی میں سنی ہوئی بچپن کی باتیں بڑاہو کر دہراتا ہے۔اس کے متعلق ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک عورت جرمن زبان میں ایک فصیح لیکچر کسی وقت بولتی تھی حالانکہ جب وہ حالت اس سے دور ہوتی تو وہ جرمن زبان کا ایک لفظ نہ جانتی تھی۔ایک ڈاکٹر اس تحقیقات میں لگا کہ اس کا سبب کیا ہے۔تو بہت تلاش کے بعد اسے ثابت ہوا کہ جب یہ لڑکی بہت چھوٹی، ماں کی گود میں تھی تو جس گھر میں وہ رہتی تھی وہاں ایک جرمن پادری تھا جو اپنی سرمن طیار کر کے گرجے میں جانے سے قبل بطور مشق کے اپنے گھر میں علیحدہ کھڑے ہو کر وہ سرمن دیا کرتا تھا۔اس سرمن کی آواز اس بچے کے کان میں پڑی ہوئی تھی اور اس کا اثر تھا۔دیکھو یہ انسان پر ایک حالت آتی ہے اور چونکہ معلوم نہیں کہ روز قیامت ہم پر کیا کیا حالات وارد ہوں گے اس واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری پیدائش کے وقت ہمارے کان میں سب سے اوّل اذان کی آواز پہنچانے کا حکم دیا ہے جس میں توحید نماز اور نجات انسانی سب کچھ آجاتا ہے۔معلوم نہیں کہ قیامت میں کیا تغیرات ہوں اور اس وقت کا سنا ہوا کام آجائے۔کسی قوم کے لیڈر نے اپنی امت کے واسطے ایسی نیکیوں کا سامان نہیںکیا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیاہے۔میرے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا بڑا بڑا