ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 492
چھوٹی چیز ہے البتہ ہاتھی عظیم الشان چیز ہے اس میں معجزہ کی اور بھی شان ہے۔مسیح کے دو کاندھوں والے فرشتے مسیح کے دو کاندھوں والے فرشتوں کے جواب میں فرمایا کہ ہر ایک شخص کے دونوں بازؤوں پر یہی کراماً کاتبین رہتے ہیں۔اور اس بات کو سب جانتے ہیں اور پھر یہ بھی حدیث میں آیا ہے کہ جمعہ کی نماز میں جو لوگ آتے ہیں تو مسجد کے دروازہ پر بھی دو فرشتے ہر ایک کا نام لکھنے کھڑے ہوتے ہیں۔لیکن آج تک ان ہر دو کو بھی کسی نے نہ دیکھا تو پھر مسیح کے کاندھوں والے فرشتے کیوں دکھلائی دیں۔حقیقت و مجاز فرمایا۔حقیقت و مجاز کا تفرقہ تیسری صدی میں ہوا ہے ورنہ اس کے پہلے حقیقت و مجاز تھا ہی نہیں۔وحی فرمایا۔وُحیٌ قبر کے کتبہ کو کہتے ہیں اور وحی بھی اس ہی لئے کہتے ہیں کہ وہ بھی انسان کے دل میں مثل پتھر کے کندہ کے گڑ جاتی ہے۔الٰہی مہمان نوازی فرمایا۔ایک بزرگ محی الدین ابن عربی کے شیخ تھے۔وہ اپنا گزارہ اس قسم سے کیا کرتے اور کچھ ایسے تکلف سے رہتے جیسے کوئی بادشاہ کا مہمان ہو تو تکلف کرتا ہے۔ایک مولوی نے پوچھا کہ حضرت نہ تو آپ پکاتے ہیں اور نہ کوئی کاروبار معیشت مہیا کرتے ہیں۔پھر آپ کیونکر اس طرح گزارہ کرتے ہیں۔تو فرمایا۔خبردار! خاموش رہیو۔کیا تم کو خبر نہیں کہ اگر کوئی شخص کسی کے گھر مہمان ہو تو وہ خود ہی اپنی ضروریات کے لئے کوشش نہیں کرتا بلکہ میزبان تمام ضروریات کا کفیل ہوتا ہے تو پھر میں جبکہ خدا کا مہمان ہوں کہ جس کا گھر تمام جہان ہے تو پھر مجھ کو اپنے ضروریات کے لئے کیسے اپنی فکر کرنی چاہیے۔چونکہ مولوی ہوتے ہیں ہشیار۔وہ ایک کتاب اٹھالائے اور سامنے پیش کردی کہ دیکھئے حضرت حدیث میں تو لکھا ہے کہ انسان کسی کے گھر جاوے تو تین دن سے زائد مہمان نہ رہے۔محی الدین ابن عربی کہتے ہیں کہ یہاں تو میں بھی حیران ہوگیا اور سمجھ گیا کہ اس سوال سے تو شیخ بھی لاجواب ہوں گے۔لیکن تھوڑی دیر کے سکوت کے بعد شیخ نے مجھے فرمایا کہ دیکھو جی ان کی حدیث کی