ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 45 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 45

ایک صاحب کے چند سوالوں کے جواب سَلَامٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ حضرت اکثر کتب تفاسیر کی سیر کی ہیں اور چاہا کہ قصہ آدم علیہ السلام کو مفسرین کے اقوال سے باہمی نقائص کو دور کر کے خوبی و حقیقت کو دل نشین کر لوں۔مگر سادہ لوح مفسرین صاحبان نے اپنی اپنی تفاسیر میں وہ وہ قصص رطب و یابس بھردئیے ہیں کہ جن کی سیر کے بعد ایک ذی ہوش آدمی اچھا خاصا خبط الحواس ہو کر معترضان کے جواب میں لاٹھی اور گندے فتوئوں سے اسلام کو اسلام قبول کروانا چاہتا ہے۔اور یہ ساری تاریکیاں الہامی روشنی نہ ہونے کی وجہ سے ہوئیں۔اس لئے آپ کی خدمت میں عریضہ ہٰذا پیش کرکے ملتجی ہوں کہ برائے خدا و رسول و بحق میرے مولا و مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ نکات میری خاطر نشان فرمائے۔سوال نمبر۱۔احادیث صحیحہ اور آثار قویہ سے حضرت آدم علیہ السلام کا پیکر جسمانی خاکی تھا اور جمہور کے نزدیک جنت لطف رحمانی کا مظہر ہے اور عالَم سے الگ ہے۔پس قاعدہ یہ چاہتا ہے کہ جنت میں جسم عنصری تو درکنار بلکہ جرم فلکی بھی نہ ہو۔ایسی حجت پر حضرت عائشہ جسمی معراج سے منحرف و مانع ہوئیں۔پر نص قرآنی سے آدم کا معہ اپنی زوجہ کے جنت میں سکونت پذیر ہونا ثابت ہے۔سوال نمبر۲۔جبکہ آدم کا جسم مٹیلا تھا اور مٹی ہی پر بنایا بھی گیا تھا۔تو(البقرۃ:۳۹)سے کیامراد ہے؟ سوال نمبر ۳۔حدیث شریف میں وارد ہے کہ لَا تَسْجُدُ ْوالِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَھُنَّ (معرفۃ السنن والآثار کتاب صلوٰۃ الخوف حدیث نمبر ۷۰۳۲)۔اور اسی طرح انجیل متی باب ۴ میں ہے (شیطان نے مسیح سے کہا کہ تو مجھے سجدہ کرے تو تجھے سب کچھ دوں۔تب مسیح نے کہا کہ اے شیطان دور ہو۔کیونکہ لکھا ہے کہ تو خدا وند اپنے خدا کو سجدہ کر اور اس اکیلے کے لئے بندگی کر) لیکن قرآن پاک کی کیفیت ان سب سے جدا ہے۔وہ آدم کو سجدہ جائز رکھتا ہے اور