ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 418
؍ جولائی ۱۹۱۱ء ہجرت کی اصل غرض فرمایا۔مومن کا کام یہ ہے کہ جس مکان ، جس لباس، جس غذا، جس صحبت سے غفلت پید اہو اُسے چھوڑ دے۔ہجرت کی اصل بھی یہی ہے۔بدترین شرک اور مشرک اقوام فرمایا۔ثنوی قوم دو خدا مانتے ہیں۔ایک یزدان ایک اہرمن۔مگر ان سے بڑھ کر آریہ مشرک ہیں جو مادہ، روح، فضا، زمانہ، خدا کو غیر مخلوق مانتے ہیں۔عیسائیوں نے تین خدا کہے ہیں۔ایک اور قوم ہے جو کسی اور کو بھی ویسا ہی علیم و خبیر ، متصرف مانتے ہیں جیسے خدا کو۔اوروں کے لیے بھی سجدے اور قربانیاں اور دعائیں کرتے ہیں۔پھر بدترین شرک ہے اللہ کا نّد بنانا۔ایک طرف سے آواز آرہی ہے حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ۔دوسری طرف وہ اپنے کاروبار میں منہمک ہیں اپنے احباب کی مجلس میں سرگرم ہے۔اصحاب کہف فرمایا۔اصحاب کہف جس قوم کا نام ہے ایک تو ان کا نشان ہے کہ ہر چیز پر کچھ نہ کچھ لکھا ہوتا ہے۔دوم وہ پہلے ایسے ملک میں ہجرت کرکے گئے جو ایک کنارہ پر ہے اور سورج اس سے ہمیشہ دکن کی طرف رہتا ہے۔معاملات لکھو فرمایا۔میرا دل چاہتا ہے تمہارے معاملات دنیوی بالکل صاف ہوں اور تم خدا کے حکم کی تعمیل میں چھوٹے سے چھوٹا معاملہ بھی ہو تو اسے لکھ لو۔(البقرۃ:۲۸۳) ایک سفر میں چند بھائی میرے ساتھ تھے۔وہ خرچ کرتے تھے۔میں نے کہا لکھ لو۔تو انہوں نے میری تحقیر کی اور کہا ہم بھائی بھائی ہیں تم ہم میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہو۔آخر ایک موقعہ پر جا کر وہ سخت لڑے۔تب میری بات کی قدر معلوم ہوئی۔دوسروں کے لیے نمونہ فرمایا۔جو تم لوگ یہاں رہتے ہو وہ دوسرے کے لیے نمونہ ہو۔پس تمہارا یہاں رہنا بڑا خطرناک ہے سنبھل کر رہو اور اپنے تئیں قرآن مجیدکے سچے متبع بناؤ۔اللہ تم کو قرآن پر عمل کرنے کی توفیق دے۔