ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 404
ایک تازہ ارشاد نامہ کسی حکم قرآنی یا حدیثِ نبوی کے مطابق غیراحمدی کے پیچھے نماز جائز نہیں سوال۔غیر احمدی خواہ کوئی کیوں نہ ہو اس کے پیچھے نماز جائز نہیں۔میں نہایت ادب سے دریافت کرنا چاہتاہوں کہ یہ صحیح ہے یا نہیں۔اگر صحیح تو کس حکم قرآنی یا حدیث نبوی کے مطابق یہ حکم دیا گیا ہے؟ جواب السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔مکرمت نامہ ۳؍جون ۱۹۱۱ء کا لکھا ہوا آج ۱۵؍جولائی۱۹۱۱ء میرے سامنے ہے۔اس سے آپ قیاس کرسکتے ہیں کہ کس قدر علیل ہوں۔۱۸؍ نومبر۱۹۱۰ء کو گھوڑی سے گرا۔اور بیماری کا سلسلہ برابر چلتا ہے ایک زخم ناسور کا رنگ پکڑ گیا ہے۔غالباً نماز بیٹھ کر پڑھتا ہوں۔ایک وزیر اور وزیر اعظم کے آپ فرزند ہو، عقلمند ہو۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(البقرۃ:۱۱۵) اس آیت کریمہ پر آپ توجہ کریں۔اس میں ارشاد ہے کہ مساجد میں خائف ہوکر حاضر ہونا چاہیئے۔مگر ان علماء کا ایسا حال ہے کہ مسجد کو ان لوگوں نے جنگ گاہ بنایا اور وہاں فتاویٰ کفر کے سوا ان کے پاس کیا رکھا ہے۔مسلمان کو کافر بناتے ہیں اور بس یہ انکار ہمارے ساتھ نہیں علی العموم ان کے آپس میں ایسے ہی سلوک ہیں۔جن دنوں میں پونچھ میںتھا ان دنوں…شہر میں نہیں آسکتے تھے۔مجھے بھی رات کو باہر کوٹھی پر ملے۔اور ایک مولوی صاحب تھے جن کو پونچھ میں تین بھائیوں……اور ایک کا نام… یاد نہیں ان تینوں نے تنگ کیا اس کی کتابیں لیں۔آخر ایک بزرگ نے……ان کو ہرکاروں میں ملازم کرکے ایک پہاڑی چوکی پر بھیج دیا۔ایک نو مسلم غلام احمد بیچارہ پونچھ میں چلا گیا۔اس کو کیسی تکلیف دی۔ایک لڑکا…وہاںسے بھاگ کرآیا تو پولیس میں احمدیوں کو ذلیل کیا۔(……) نے ہم سے بدلہ لیا۔کیونکہ میں نے ہی ان کی آمد رفت شہر میں کرادی تھی۔اپنا کفر