ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 381 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 381

کیسا سمجھتے ہو؟ تو انھوں نے کہا کہ ہم اسے بہت برا سمجھیں بلکہ جان سے مار دیں کیونکہ اس نے مال میں خیانت کی۔اس پر جب یہ پوچھا کہ پھر تم کیوں محنت سے کمائے ہوئے مال میں ناجائز تصرف کرتے ہو تو چپ رہ گئے۔ٹھٹھا کرنے والے کا انجام فرمایا۔جو کسی کو حق بات اللہ کے لئے سمجھائے اور وہ اس پر ٹھٹھا کرے تو اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔الٰہی انعام فرمایا۔خدا کے ہر آن میں ہم پر لاکھوں کروڑوں انعام ہیں اگر وہ ہر آن ہر لحظہ ہماری دستگیری نہ کرے تو دم لینا مشکل ہو جاوے۔ظاھر من القولکے معنے فرمایا۔قرآن مجید سورہ رعد میں(الرعد:۳۴) کے دونوں معنے ہیں مضبوط بات۔باطل بات جس کی تہ میں کوئی حقیقت نہ ہو۔مسلمانوں کابد حال فرمایا۔مسلمانوں کے حال پر افسوس آتا ہے اگر دریافت کیا جائے کہ جیلخانوں میں زیادہ کس قوم کے آدمی ہیں تو یہی نکلیں گے۔ہمارے دیکھتے دیکھتے دس سلطنتیں ان کی ہلاک ہوئی ہیں ذلت و ادبار ان پرسوار ہے جیسا کہ یہود پر ہوا۔ایک وقت تھا کہ اسلامیوں کے مقابل پر جو کھڑا ہوتا، وہ ہلاک ہوتا یا یہ وقت ہے کہ یہ خود ذلیل ہیں اپنی ہی شامت اعمال کی وجہ سے۔قرآن میں نعماء جنت کا ذکر بطور مثال ہے فرمایا۔قرآن مجید میں جنت کی نعماء کا جو ذکر ہے یہ بطور مثال ہے۔مثال حقیقت کے مقابل میں کیا چیز ہے۔دیکھو اگر ایک ستارہ بھی زمین پر گرپڑے تو ہلاکت یقینی ہے لیکن اس کا تمثل مصفا پانی میں کیا بھلا معلوم ہوتا ہے۔آنحضرت ؐ اور مسیح موعود ؑ کے زمانوں کے دو بڑے امراض فرمایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں شرک کا بڑا زور تھا آپؐکی ہمت عالیہ و توجہ موجہ کا اکثر حصہ اسی کے ردّ میں خرچ ہوا۔حضرت مرزا نے اس زمانے میں مخلوقِ خدا میں سب سے بڑا مرض یہ پایا کہ دنیا کو دین پر مقدم کرتے ہیں بلکہ دین کی پرواہ ہی نہیں اس لئے آپ نے بیعت میں یہ اقرار لازم رکھا کہ میں دین کو دنیا پر مقدم کروں گا۔