ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 368
نے دیکھا ہے کہ وہ پوجے گئے ہیں۔میرے سامنے جب کوئی شخص نذر رکھتا ہے تومیرا دل کانپ جاتا ہے کہ خدا جانے یہ مجھے کیا سمجھتا ہے۔اس کو یہ خیال ہوگا کہ خدا کے ایجنٹ بنے ہوئے ہیں اور یہاں یہ حال ہے کہ چھ ماہ سے پڑے ہیں بوجہ بیماری۔نذور کے مصرف نہیں دیکھ سکا۔میر اخدا کھانے کے لئے تو عجیب طور پر بھجواتا ہے یاغستان سے دو روپیہ کچھ آنے جو نہایت اطیب تھے اس نے بھجوا دیئے۔مجھے سکھوں اور چینیوں نے بھی دیا جن کو مجھ سے کچھ تعلق نہ تھا۔ہمارے ایک بزرگ ہوئے ہیں ان کے ایک بھائی شیخ محمد تھے ان کی بی بی کا نام ام حبیبہ تھا۔وہ اس قدر ذکر شغل میں بڑھیں کہ انہوں نے ذکر الٰہی کے لئے نوافل کو چھوڑدیا۔پھر اور اور ترقی کی تو سنت غیر موکدہ کو چھوڑا۔پھر جو او رلذت بڑھی تو سنن موکدہ میں فرق آنے لگا۔خاوند کو فکر ہوئی کہ بیوی ترقی کررہی ہے۔انہوں جو دریافت کیا تو کہا کہ ذکر الٰہی میں اس قدر ذوق شوق ہے کہ سنن اور نوافل نہیں پڑھتی۔میاں نے کہا کہ آپ لاحول کا بھی ذکر کریں۔وہ لاحول پڑھنے لگی۔دیکھا کہ مصلے پر ہنومان آگیا ہے۔تو بی بی صاحبہ نے اسے دھتکار دیا اور کہا کہ یہ کیوں؟ ہنومان نے کہا کہ یہاں تو ہمارا ہی دخل تھا یہ اب کیا کرتوت شروع کردی۔تم تو ہمارے قابو میں آگئی تھیں۔اتنے میں میا ں بھی آگئے اور انہوں نے پوچھا کیا حال ہے؟ تو کہا کہ اب تو نوافل اور سنن پڑھا کریں گے۔غرض یہ خوب یاد رکھو۔بزہد و ورع کوش و صدق و صفا و لیکن میفزائے بر مصطفی ہمیں کافی دین مل گیا ہے نفس ریا کرے کرنے دو۔ہم فرمانبرداری کرتے ہیں اسے کہہ دو کہ تو خود سزا پائے گا۔ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ ہر شیطانی وسوسہ کا علاج لاحول ہے۔ہم نے شیطان کو دیکھاہے اور اس کے بھاگنے کا بھی تجربہ کیا ہے۔نورالدین کے پہلے صفحہ پر اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ تین مرتبہ لکھا ہے اور لاحول تین مرتبہ۔جب میں اللہ تعالیٰ ہی کے فضل سے نورالدین لکھتاتھا تو میںنے دیکھا کہ ہندؤوں کے گھر میں میری شادی ہوئی ہے۔وہ ساس کہتی ہے کہ آخری پوجا ایک مندر میں کر آؤ تو پھر لڑکی کو لے جاؤ۔وہ مجھے