ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 348 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 348

حق گوئی کونٹ ٹولسٹائی کا ذکر تھا کہ اس نے میرے سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں سے کچھ انتخاب کیا تھا۔اسی انتخاب کا انتخاب ولایت کے مشہور رسالے ریویو آف ریویوز میں چھاپتا۔فرمایا۔اس میں سے کچھ سناؤ۔مولوی شیر علی صاحب نے چند ایک کا ترجمہ سنایا۔مثلاً۔(۱) میں ایک مخفی خزانہ تھا میں نے ارادہ کیا کہ شناخت کیا جاؤں تو میں نے آدم کو پیدا کیا (۲) مزدور کو اس کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔اس قسم کے چند فقرے سنائے گئے تو آپ نے فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے اس کی طبیعت میں حق جوئی تھی۔ریویو کے بھی کچھ پرچے اس نے پڑھے تھے اور حضرت صاحب کی تحریروں کو پسند کیا تھا۔اس پر میں نے عرض کیا کہ اس نے پنڈت دیانند صاحب کی بھی تعریف کی ہے۔فرمایا۔پنڈت دیانند صاحب نے اسلام کے لئے راستہ صاف کیا ہے جو بت شکنی اس نے کی ہے مسلمانوں کے کام کو ہلکا کر دیا ہے۔میں نے عرض کیا کہ میں تو ان تمام ریفارمروں کو جو چودہویں صدی میں ہوئے حضرت مسیح موعودؑ کے لئے بطور ارہاص سمجھتا ہوں۔فرمایا۔درست ہے۔اسی ضمن میں بعض مشنریوں کا ذکر کیا کہ وہ جو جوش تبلیغ عیسویت کے لئے رکھتے ہیں وہ محض اخلاص سے ہوتا ہے ریاکاری ان میں نہیں ہوتی۔میں نے ایسے مشنری دیکھے ہیں جن سے مجھے گفتگو کرنے کا موقعہ کثرت سے ملتا رہا۔پادری گارڈن صاحب وہ ہمیشہ جب بھیرہ میں آتا تھا اسے خیال ہوتا تھا کہ اس مرتبہ نور الدین کو بپتسمہ دے دوں گا حالانکہ میں ان سے بڑے بڑے مباحثے کرتا تھا۔مگر چونکہ میں بائیبل کے بڑے حوالے دیتا وہ سمجھتا کہ یہ اثر پذیر ہوئے بغیر نہ رہے گا۔مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تو اس باطل سے ایسا بچایا کہ اس کے کچلنے کی توفیق دی۔یہ فضل کی بات ہے۔میرے لئے تو حضرت صاحب نے بھی یہی مجاہدہ تجویز کیا تھا