ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 347 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 347

دو ہی باتیں غلبہ اور رعب کی ہو سکتی ہیں خوف یا امید۔اور ان دونوں کے متعلق مجھے اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ ہی نہیں تو میرے دل پر رعب کیوں آتا؟ میں خدا تعالیٰ ہی کو اپنا حاجت روا یقین کرتا ہوں۔ہاں ایک بات ہے اولو الامر کے حکم اطاعت کے نیچے ہیں۔ایک چپراسی جو سرکاری حکم لے کر آئے اس کی فرمانبرداری بھی ضروری سمجھتا رہا ہوں اور وہ بھی اس لئے کہ خدا نے حکم دیا ہے۔میرے لئے ایسے موقعہ پیش آئے جہاں مجھ پر کسی کا رعب پڑتا مگر خدا کے فضل سے نہیں۔ایک مرتبہ بھیرہ کے عماید ہماری مسجد میں جمع ہوئے اور وہاں ایک اچھا مجمع تھا۔میں اس طرف سے گزرا تو اس اجتماع کو دیکھ کر اندر چلا گیا۔وہاں میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب بھی ہیں اور وہ چشم پُر آب ہیں۔میں نے بڑی جرأت سے پوچھا کہ کیوں روتے ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے تمہارے کفر پر فتویٰ لیتے ہیں۔میں نے کہا کہ اگر میرے عقائد آپ کے خیال میں ایسے ہیں تو فتویٰ دے دو۔انہوں نے جواب دیا کہ میں تو کفر کی بات نہیں پاتا۔پھر میں نے کہا کہ نہ دو۔انہوں نے کہا یہ سب عماید اور اہل اثر لوگ ہیں۔میں نے کہا کہ پھر میں آپ کا شاگرد ہوں آپ کی طرف سے میں لکھ دیتا ہوں اور جو ان کا جی چاہے کریں۔میں نے کاغذ لیا اور لے کر لکھ دیا کہ جس شخص کے ایسے عقائد ہوں وہ کافر ہے۔سب کے سب منہ دیکھتے رہ گئے۔ان عماید کا میرے قلب پر کچھ بھی اثر نہ ہوا۔اور میں دیکھتا تھا کہ اس حالت میں مجھے ذرا بھی وہم نہ تھا کہ یہ مجھے کچھ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔پھر ایک مرتبہ ایک رئیس کے سامنے جس سے مجھے تعلق طبابت بھی تھا بت پرستی پر گفتگو ہوئی۔وہ بت پرستی کا گرویدہ تھا۔میں نے بڑے زور سے بت پرستی کی تردید کی اور اسے بھی کہا کہ تم بت پرستی کی حکومت سے ایک کلمہ کے کہنے سے آزاد ہو سکتے ہو اور ایک ہی منٹ کے اندر نکل سکتے ہو۔مگر چونکہ بت پرست صحیح علوم سے ناواقف ہوتا ہے اسے توفیق نہ ملی۔مجھے کبھی ایسے درباروں میں حق کے کہنے سے شرمندہ ہونا نہیں پڑا۔فرمایا۔مجھے کبھی یاد نہیں کہ خدا نے مجھے شرمندہ کیا ہو۔