ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 340
غیر احمدی مسلمان سوال پیش ہوا کہ جو غیر احمدی مسلمان ہم سے پوچھے کہ ہماری بابت تمہارا کیا خیال ہے اسے کیا جواب دیا جاوے؟ فرمایا۔لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ماننے کے نیچے خدا کے سارے ماموروں کے ماننے کا حکم آ جاتا ہے۔اللہ کو ماننے کا یہی مطلب ہے کہ اس کے سارے حکموں کو مانا جاوے گا اب سارے ماموروں کا ماننا لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے معنوں میں داخل ہے۔حضرت آدم، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت مسیح علیہم السلام، ان سب کا ماننا اسی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی ماتحت ہے حالانکہ ان کا ذکر اس کلمہ میں نہیں۔قرآن مجید کا ماننا، سیدنا حضرت محمد خاتم النبیینؐ پر ایمان لانا، قیامت کا ماننا سب مسلمان جانتے ہیں کہ اس کلمہ کے مفہوم میں داخل ہے۔اور یہ جو کہتے ہیں کہ ہم مرزا صاحب کو نیک مانتے ہیں لیکن وہ اپنے دعوے میں جھوٹے تھے، یہ لوگ بڑے جھوٹے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے (العنکبوت:۶۹) دنیا میں سب سے بڑھ کر ظالم دو ہی ہیں ایک جو اللہ پر افتراء کرے۔دوم جو حق کی تکذیب کرے۔پس یہ کہنا مرزا نیک ہے اور دعاوی میں جھوٹا گویا نور و ظلمت کو جمع کرنا ہے جو ناممکن ہے۔طاعون کا علاج ایک خط پیش ہوا جس میں کسی مخلص نے عرض کیا تھا کہ یہاں طاعون کا زور ہے۔فرمایا۔اوّل۔استغفار کثرت سے کریں۔دوم۔خیرات، کھانے کی چیزوں کے متعلق خصوصیت سے کریں۔یعنی کھانا پکا کر مساکین و غرباء کو کھلائیں۔سوم۔نماز میں الحمد شریف پڑھنے کے وقت کہتے ہوئے مغضوب علیہم سے وہ لوگ مراد لیں جن کو طاعون ہوتا ہے اور بارگاہ ربی میں عرض کریں کہ الٰہی اس غضبی گروہ میں شامل نہ کیجئیو۔(البدر جلد ۱۰ نمبر ۱۹ مؤرخہ ۹ ؍مارچ ۱۹۱۱ء صفحہ