ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 329
نہیں۔غور تو کرو یہ نام کیسے لطیف اور آپ کی تعلیم سے کیسے مناسب ہیں۔آپ کے نجیب الطرفین ہونے میں کسی کو کلام نہیں۔آپ کی پیدائش کی پہلی برکت یہ ہے کہ ابی سینیا کے حبشی بادشاہ ہمیشہ حجاز پر چڑھائیاں کرتے تھے اور ان کے دانت مکّہ پر لگے رہتے تھے۔منجی قوم، منجی ملک ایسے پیدا ہوئے کہ جس سال وجود باجود نے ظہور پایا خارجی دشمنوں کا نام و نشان بھی نہ رہا۔ہمارے بادشاہ ماجوج جزائر کے رہنے والے۔حزقیل ۳۹ باب ۶ آیت، جن کا تسلّط ہزار سال ہجرت کے بعد موافق مکاشفات یوحنّا ضرور تھا۔۲۰باب ۷،۸آیت، جزائر برطانیہ سے یہاں پہنچے پر الٰہی چھاؤنی ان سے محفوظ رہی۔عزیز شہر کا گھیرنا بھی دور ہی رہا۔کیا یہ امراوریہ نصرتِ الٰہی بُت پرستی کی حفاظت کے لئے تھی۔رسالت مآب کا پیدا ہونا عرب کے لئے کیسی خوش قسمتی ہوئی۔کوئی بادشاہ ان پر مسلّط ہونے والا نہ رہا۔آزاد ہوگئے۔تعجب ہے ترکی سلطان جو برائے نام ان کے بادشاہ ہیں وہ بھی خادم الحرمین ہونا فخر سمجھے۔دیکھو آپ کا وجود باجود عرب کے لئے کیسا نشان نبوت ہے۔دنیا میں کوئی شخص قوم کا آزادی بخش اگر ایسا ہوا ہے تو اس کی نظیر پیش کرو۔اگر تمام مخلوق میں ایسے وجود باجود کے پیش کرنے سے عاجز ہو تو ہمارے ہادی کا فعل یقیناً معجزہ اور خرق عادت سمجھوجس نے اپنے سامنے پوری کامیابی کو دیکھ لیا۔آپ کا تمام ملک آپ کی تمام قوم آزاد ہوکر آپ کی فرمانبردار اور مکرم اور دنیا پر ممتاز بن گئی۔مسیؑح کی کامیابی جیسی ہوئی اس پر اناجیل کی شہادت دیکھ لو۔وید کے ملہم (اگر ملہم ہیں)دشمنوں کی تباہی اور اپنے فتوحات ہی مانگتے رہے۔ان کی الہامی دُعاؤں کی برکت آریہ ورت پر الٹی ہی پڑی۔غور کرو ایسا ناکامی کا الہام کدھر سے ہوا۔موسٰی ؑ کا خیال مت کرو۔اوّل تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مثیل ہیں۔دوم موسٰی ؑ نے اپنی قوم کو بیابان میں ہی چھوڑا منزل مقصود تک نہ پہنچایا بلکہ موسیٰ آپ بھی ملک موعود میں نہ پہنچے محروم ہی رہے۔تورات استثناء ۳۲باب ۵۲آیت۔