ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 295
مرشد۔کیا تم جانتے ہو کہ خدا کیا ہے؟ خلیفۃ المسیح۔ہاں خدا جو چاہتا ہے وہ ہو جاتا ہے۔مرشد۔بس خدا نہ بننے سے یہ مطلب ہے کہ اگر تمہارا چاہا ہوا کبھی نہ ہو تو اس سے افسوس نہ کرنا اور رنج نہ اٹھاؤ۔کیونکہ یہ تو ذات باری ہی کا خاصہ ہے کہ بندے کی شان نہیں ہو سکتی۔پس جب تم ہر ایسے موقعہ پر یہ یقین کر لو گے کہ تم خدا نہیں جو تمہارا ہر چاہا ہوا ہو تو اس سے جہاں ایک طرف خوش رہو گے اور تمہیں اس موقعہ پر رنج نہیں ہو گا وہاں دوسری طرف اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھے گا اور عبودیت کا مقام متحقق ہو جائے گا۔پھر رسول نہ بننے کے متعلق فرمایا کہ رسول کی اطاعت فرض ہے۔پس اگر تمہاری اطاعت نہ کرے تو تم اپنے دل کو یوں تسلی دے سکتے ہو کہ میں رسول تو ہوں نہیں۔اس طرح پر تم خوش رہو گے۔(ماخوذ از کالم ’’ایوان خلافت‘‘ الحکم جلد۱۵ نمبر ۲مؤرخہ ۱۴؍جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۶) دوران کرب و تکلیف دعا ۱۷؍ جنوری ۱۹۱۱ء کو آپ کو سخت کرب رہا۔اس کرب میں جب کہ زخم کو صاف کیا گیا آپ کثرت کے ساتھ پڑھتے تھے اور یا سبحان اللّٰہ سبحان اللّٰہ کہتے تھے۔اس وقت بے حد تکلیف تھی یہاں تک کہ ایک دو مرتبہ یہ بھی کہا کہ کلورا فارم ہی سنگھا لو۔دیرینہ خادم کو ناصحانہ ارشاد ۱۹ اور ۲۰؍ جنوری ۱۹۱۱ء کی درمیانی شب کو ساڑھے تین بجے قریب مولوی غلام محمد صاحب مہاجر امرتسری جو ایک نہایت کم گو اور قابل قدر مخلص نوجوان ہے (حضرت خلیفۃ المسیح مدظلہ العالی سے خصوصًا اسے محبت ہے اور وہ آپ ہی کے قدموں میں عرصہ سے رہتے ہیں۔حضرت ہی ان کے متکفل ہیں) نے عرض کیا کہ حضور میں آپ کا پرانا خادم ہوں میرے لئے کیا ارشاد ہے؟ فرمایا۔لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کو مضبوط پکڑو اور اپنے بس میں کر لو۔