ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 294 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 294

۹؍ جنوری ۱۹۱۱ء کو حضرت کی خدمت میں عرض کیا۔آپ کو اسے رخصت کرنے میں تأمل ہوا۔فرمایا۔سردی سے بچاؤ کا انتظام تو انشاء اللہ ہو جاتا ہے۔جانے کی ضرورت نہیں۔اوراس کے ساتھ مولوی غلام محمد صاحب مہاجر امرتسری کو حکم دیا کہ وہ گرم کپڑے جو خرید کر رکھے ہوئے ہیں لاؤ۔چنانچہ فوراً تعمیل کی گئی۔آپ لیٹے ہوئے تھے اور درد کی تکلیف بھی تھی مگر آپ ایک جوش کے ساتھ اٹھے اور ایک عمدہ اور قیمتی کشمیرہ چوہدری ولایت خاں کے سپرد اپنے ہاتھ سے کیا۔حق کی طرفداری حق کی رعایت اور طرفداری کے لئے آپ کے دل میں ایک عجیب جوش ہے۔ایک شخص ایک ابتلا میں آگیا اور اس ابتلا سے نکلنے کے لئے سرکاری مدد کی ضرورت تھی۔میں اس معاملہ میں کسی حد تک اس کی رہنمائی کر سکتا تھا۔لیکن جو واقعات میرے کان تک پہنچائے گئے اس رنگ میں اس کو ناقابل امداد یقین کرتا تھا۔دوسری طرف اس نے حضرت سے میرے نام حکم حاصل کیا کہ میں اس کی جو مدد کر سکتا ہوں کروں۔اس اطلاع پر جو مجھے ملی تھی میں نے حضرت سے بے تکلف جا کر عرض کیا کہ واقعات کا یہ سلسلہ اس کی تائید نہیں کرتا۔فرمایا۔تم حق کی تائید کرو۔ناحق کسی کا ساتھ مت دو خواہ وہ اپنا کیسا ہی عزیز اور رشتہ دار کیوں نہ ہو۔حق کو ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے۔سدا خوش رہنے کا نتیجہ سدا خوش رہنے کا ذکر آ گیا ہے۔اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حضرت کے تجربہ کردہ اسباب خوشی کا ایک نسخہ یہاں درج کر دوں۔حضرت خلیفہ المسیح مدظلہ العالی نے بار ہا فرمایا کہ میرے ایک پیر تھے۔ایک مرتبہ انہوں نے آپ کو ہدایت کی کہ اگر سدا خوش رہنا چاہتے ہو تو خدا اور رسول نہ بننا۔حضرت خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں کہ میں حیران سا ہو گیا کہ یہ کیا بات ہوئی۔آپ کے مرشد نے پھر اس کی تشریح آپ ہی سے کرائی۔