ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 271 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 271

تائید سے قدرت ثانیہ کے مظہر اوّل ٹھہرے اور اللہ تعالیٰ نے قوم کو آپ کے ہاتھ پر جمع کر دیا تو صدرانجمن میں حضرت مسیح موعود مغفور کے اہل بیت کے وظیفہ کے ساتھ حضرت خلیفۃ المسیح کے گزارہ یا وظیفہ کا سوال بھی غور کے لئے ایک مجلس شوریٰ کے سپرد ہوا۔بڑی بحث کے بعد جدا جدا دو رقوم وظیفہ کی اہل بیت حضرت موعود مغفور اور خلیفۃ المسیح کے لئے تجویز کی گئیں۔مگر جب یہ تجویز حضرت کے پاس پہنچی تو آپ نے انکار کر دیا اور فرمایا۔جو خدا مجھے اس وقت تک روٹی کپڑا اور مکان دیتا رہا ہے اور میری تمام ضرورتوں کا جس نے آپ اہتمام کیا ہے۔اب عمر کے اس آخری حصہ میں مجھے غیروں کے سپرد کر دے گا؟ ہرگز نہیں۔اپنے مولیٰ پر ایسا گمان میرے وہم میں بھی نہیں آسکتا۔اس نے میرے رزق کا ظاہری ذریعہ طب بنایا ہے۔پس میں تو نبض پر ہاتھ رکھ کر ہی کھائوں گا۔حضرت نے اپنی علالت کے ایام کے تمام اخراجات کو ادا کر دیا۔اس ضمن میں شیخ تیمور صاحب نے پوچھا کہ نواب صاحب کے ہاں سے کچھ چوزے آئے تھے کیا ان کی قیمت بھی دے دوں؟ فرمایا۔نواب صاحب کی بات خاص ہے اسے رہنے دو۔اظہار شکر گزاری کی روح عبدالسلام آپ کا چھوٹا سا بچہ ہے جو چار پانچ سال سے زیادہ عمر کا نہیں۔ایک روز حضرت کے ہاتھ کو دبانے لگا۔حضرت نے وفور جوش سے فرمایا۔میں بہت خوش ہوں تمہارے لئے بڑی دعا کی ہے۔( وباللہ التو فیق ) ایڈیٹر (ماخوذ از کالم ’’ایوان خلافت‘‘ الحکم جلد ۱۴ نمبر۴۱ مورخہ ۷؍ دسمبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۳تا۶)