ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 270
وقت حضرت کی دعائوں کی قبولیت کی گھڑی تھی۔اور خد اکا شکر ہے کہ اس وقت دعا کرنے والوں میں ہم بھی شامل تھے۔غرض اسی وقت وہ منی آرڈر ز آپ کو تقسیم کئے گئے۔جس شخص نے پنڈ دادنخاں سے چونّیوں کا خط لکھا تھا فرمایا۔اس کو لکھ دو۔معاف، مجھے تو معلوم بھی نہیں۔۱۸۶۸ء یا ۱۸۶۹ء کا معاملہ ہے۔ہمیں تو کچھ خبر نہیں۔بہرحال میں اس کی دیانت پر ایمان لایا۔اس ذکر میںپھر دیر تک اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے رہے۔اس واقعہ نے بتا دیا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ آپ کی دستگیری فرماتا ہے۔خلیفۃ المسیح کی عالی خیالی ایک دن صبح کے وقت آپ نے شیخ تیمور کو پاس بلایا اور نہایت آہستگی سے ایک بات کہی۔میرا کان بھی اسی طرف تھا کہ کیا فرماتے ہیں۔فرمایا۔تم ایک فہرست حساب کی بنائو کسی تفصیل کی ضرورت نہیں صرف ٹوٹل ہو۔جس قدر میری ادویات پر خرچ ہواجس قدر میری بیٹیوں پر کپڑے کے لئے خرچ ہوا ہے اس کل رقم کی میزان حاصل کرو۔اور پھر میری بیوی کو کہو کہ جو روپیہ کپڑے میں باندھ کر دیا گیا ہے اس میں سے وہ کُل حساب ادا کرو۔فرمایا۔میرا مولیٰ مجھے دیتا ہے میں کسی انسان کا احسان مند نہیں ہو سکتا۔اس نے میری ضروریات کی کفالت کا آپ مجھ سے وعدہ کیا ہے۔یہ بات کسی معمولی آدمی کے منہ سے نہیں نکل سکتی۔بیماری پر خرچ ہوا۔اور ایسے شخص کی علالت پر خرچ ہوا جس کی وجہ سے قوم روپیہ دیتی ہے۔اور اس کی ضروریات ذاتی کا انصرام اس روپیہ سے اگر ہو تو عین رضائے الٰہی کا موجب ہے۔مگر نہیں اپنے اخراجات وہ انجمن سے لینا نہیں چاہتا۔میں اس واقعہ کی تائید میں ایک اور واقعہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔جب حضرت خلیفۃ المسیح خدا تعالیٰ کے فضل اور محض اسی کی