ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 268
کلام کا علالت کے ایام میں سننے کا شوق ظاہر کرنا اور اس کے دیوان اور مثنوی کو منگوانا خاص تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔اور اسی سلسلہ میں اس پیشگوئی کا نکل آنا میں تو فیضی کی روح کی نیازمندانہ تعلق ہی کو دیکھتا ہوں۔بہرحال یہ عجیب بات ہے کہ اس قدر عرصہ پہلے فیضی مرحوم کے دیوان میں ایک غزل موجود ہے۔جو اس واقعہ کا صحیح اور سچا نقشہ ہے۔اور شاعرانہ مذاق کے لوگ خوب جانتے ہیں کہ یہ رنگ غزل کا نہیں ہوتا۔مفتی صاحب نے اس غزل کو حضرت کے حضور بھی پیش کر دیا۔آپ نے دیوان فیضی لے کر اس غزل کو دیکھا اور خصوصیت سے حضرت صاحبزادہ صاحب کو اس کی جلد کی طرف توجہ دلائی۔پھر فرمایا کہ اکبر شاہ خان کو بلائو۔وہ سنائے۔خان صاحب کے متعلق یہ بھی فرمایا کہ ان کو عشق ہے اپنے جوش محبت میں انہوں نے اس کو نکال لیا۔پھر دیر تک خود بھی تعجب فرماتے رہے کہ فیضی نے یہ کیوں لکھا۔میں نے ان تعلقات کا ذکر کیا جو اوپر لکھ آیا ہوں تو خاموش رہے۔اور پھر اس غزل کو خان صاحب سے سنا اور بھی چند اشعار دیوان فیضی سے سنے ا ور اظہار مسرت فرماتے رہے اور بالآخر اس کا پہلا شعر سنا۔پھر اسی غزل کا مضمون شروع ہو گیا اور بالآخر فیضی کی سوانح منگوائی اور ساری سنی۔فقر و غنا کا تماشا ایک روز بعد مغرب میں آپ کی خدمت میں حاضر تھا چند اور احباب بھی موجود تھے۔فرمایا۔بیماری کا ابتلا بھی عجیب ہوتا ہے۔اخراجات بڑھ جاتے ہیں ا ور آمدنی کم ہو جاتی ہے اور دوسرے لوگوں کی خوشامد کرنی پڑتی ہے۔میری آمدنی کا ذریعہ بظاہر طب تھا۔اب اس رشتہ کو بھی اس بیماری نے کاٹ دیا ہے جو لوگ میرے حالات سے واقف نہیں وہ جانتے تھے کہ اس کو طب ہی کے ذریعہ ملتا ہے مگر اب اللہ تعالیٰ نے اس تعلق کو بھی درمیان سے نکال دیا۔میری بیوی نے آج مجھے کہا کہ ضروریات کے لئے روپیہ نہیں اور مجھے یہ بھی کہا کہ مولوی صاحب آپ نے کبھی بیماری کے وقت کا خیال نہیں کیا کہ بیماری ہو تو گھر میں دوسرے وقت ہی کھانے کونہ ہوگا۔میں نے اسے کہا کہ میرا خدا ایسا نہیں کرتا۔میں روپیہ تب رکھتا جو خدا تعالیٰ پر ایمان نہ رکھتا۔اس پر میں نے عرض کیا کہ حضور آپ کی بیماری کے ابتلاء کو اس قسم کا ابتلاء تو پھر نہیں کہہ سکتے۔آپ