ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 267 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 267

نہوں نے کہا کہ ہاں میں نے پڑھا ہے۔اس پر فرمایا۔اس کا کوئی شعر یاد ہو تو سنائو۔جس پر انہوں نے یہ مقطع پڑھا ؎ چشمے کہ تو فیضی بہ رخ دوست کشورے بائد کہ بآں چشم نہ بینی دگراں را اس شعر کو بہت ہی پسند کیا اور دوبارہ پڑھوایا اور تعریف کی۔ایک ضمنی لطیفہ خان صاحب نے اپنے ذوق کے موافق دیوان فیضی میں سے ایک غزل احباب کو سنائی جسے دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ گویا فیضی نے تین سو برس بیشتر حضرت خلیفۃ المسیح کے اس واقعہ کو دیکھ کر اسی موقعہ کے لئے لکھی ہے اور وہ یہ ہے۔زخم بالائے دیدہ است او را چشم زخمے رسیدہ است او را میچکد خون ز تیغ مزگانش کس باین رنگ دیدہ است او را گلشن جان بود کہ ز صد گل تر پیش نرگس رسیدہ است او را دل خون گشتہ شہیدان است خون کہ بہ رود دیدہ امت او را حال فیضی بہ بین گز ابر دیت تیغ در دل خلیدہ است او را اب اس کو فیضی کی پیشگوئی کہو یا اس کی روح کا نیاز مندانہ تعلق سمجھو جو حضرت کے ساتھ اسے ہو گا۔معرفت نہ رکھنے والے ایسی باتوں کو مبالغہ اور خیال آفرینی پر حمل کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔مگر واقعات کے سلسلہ کو اگر ملایا جاوے تو یہ امور حقائق کے تحت میں آتے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح کا فیضی مرحوم کے