ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 257
(الحجرات:۱۰)۔کیا ہم پھر وچھووالی میں جا سکتے ہیں ؟ وچھو والی کی آریہ سماج کے پرنسپل صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں ایک خط لکھا تھا کہ خواجہ صاحب ان کے جلسہ پر ایک لیکچر دیں جس کے جواب میں حضرت نے تحریر فرمایا۔مکرم معظم پرنسپل صاحب بالقابہ و ادا بہ و خاکسا ر پورے طور پر بحمدا للہ مذہب اسلام سے آگاہ اور اسلام کے اصول بآوازِ بلند پانچ وقت سنائے جاتے ہیں۔(الانعام:۱۰۹) قرآن کریم کا کلمہ ہے اس کا ترجمہ ہے۔مت گالی دو ان کو جن کو پکارتے ہیں اللہ کے سوا۔اس حکم کے مطابق ہم کسی کے معبود کو برا کہنے کے مجاز نہیں۔پھر صرف دنیا میں ہماری جماعت ہے جس نے پیغام صلح لاہور میں دیا۔مگر میرے معزز اور شریف انسان ! ہمیں و چھووالی کا ہال ایک بار پورا سبق دے چکا ہے۔میں خود اس لیکچر میں تھا جس میں مہمانوں کا ذرا لحاظ نہ ہوا۔پھرا س وقت ہماری جماعت ایک شخص کے ماتحت ہے اور ممبران آریہ سماج آزادی میں پوری ڈگری لے چکے ہیں۔وہ جماعت کسی خاص مقتدا کے ماتحت نہیں۔خاکسار نور الدین ۲۹؍اکتوبر ۱۹۱۰ء چکڑالوی ایک شخص کے خط کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح نے تحریر فرمایا۔بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔نحمد ہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ چکڑالہ کے مولوی سے تو ملنے کا موقع نہیں ہوا کہ اس سے دریافت کروں مگر میں نے اس کے مقرب لوگوں سے پوچھا ہے کہ تم لوگ کلمہ پور ا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہتو اس لئے اکٹھا نہیں پڑھتے کہ قرآن کریم میں ایک جگہ موجود نہیں۔یہ نماز کہاں کہاں سے اکٹھی کر کے جوڑی ہے