ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 244 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 244

اَللّٰہُ اَکْبَرُسے بڑھ کر اللہ کے لئے تعظیم کا لفظ کون سا ہوسکتا ہے۔اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ میں اگر توحید از روئے افعال و ذات و صفات کے مسئلے کو لیا ہے تو ساتھ ہی اس کی حقیقی معبودیت کا اعلان کیا ہے۔پھر اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْل اللّٰہِ میں مسئلہ رسالت و نبوت کا اعلان کرتے ہوئے تمام انبیاء کے کمالات کے جامع کا نمونہ بطور شہادت پیش کیا ہے۔حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِمیں عبادات کی جامع نماز کی طرف بلایا ہے اور حَیَّ عَلٰی الْفَلَاحِ میں تمام ایسے فضائل کی طرف آنے کی ترغیب دی ہے جو انسان کی کامیابی کا مدار ہیں۔پھر اَللّٰہُ اَکْبَرُ اور لَااِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ کو دہرا کر بتایا ہے کہ اصل مدار نجات توحید ہی ہے۔ایمان باللہ، ایمان ملائکہ، ایمان کتب، ایمان رسل، ایمان یوم آخر، ایمان قدر خیرو شر، فضائل کو لینا، رذائل سے بچنا۔یہ سات اصل الاصول ایمان ہیں۔علم الرؤیا فرمایا۔علم الرؤیابھی ایک بڑا عجیب علم ہے اللہ تعالیٰ ہی جسے اس کی سمجھ دے۔قرآن مجید میں نبی کی خواب کا بھی ذکر ہے، کافر کی خواب کا بھی، فاسق وفاجر کی خواب کا بھی۔غرض ہر قسم کے آدمیوں کی خواب کا ذکر ہے تامعلوم ہوتا رہے کہ یہ علم بہت ہی باریک اور عجیب در عجیب ہے۔آج کل کے پڑھے ہوئے اسے محض خیال قرار دیتے ہیں۔مگر وہ غلطی پر ہیں۔افسوس کہ مسلمانوں نے اب اس کی طرف توجہ کم کردی ہے۔بہت کم لوگ ہیں جو اپنے خوابوں کے متعلق یادداشت رکھیں اور جو رؤیا ان کے سچے نکلیں وہ جمع کرتے جائیں تا کہ عجائبات قدرت کا علم ہو۔(۱) رؤیا کبھی تو بعینہ ویسے ہی پوری ہوتی ہے۔جیسے  ( یوسف : ۳۷) چنانچہ وہ اسی خدمت پر مامور ہوا۔(۲) یا آدھی ویسے ہی اور آدھی دوسرے رنگ میں جیسے اس نے دیکھا کہ میرے سر سے روٹیاں پرندے کھاتے ہیں۔اس کا سر ہی روٹیاں بن گیا۔