ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 243 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 243

صانع نظام عالم تیسری دلیل یہ ہے کہ خدا کے چشمے سے نکلی ہوئی مخلوق ایک دوسرے کی مکذب نہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سرچشمہ ایک ہے اور وہ ایک ہی ہستی کے ارادے کے تحت میں ہے۔آنکھ جو رنگ مشرق میں دیکھتی ہے وہی مغرب میں یقین کرتی ہے اور پھر کان اس کی تکذیب نہیں کرتے۔غرض نظام عالم ایک حد کے اندر باقاعدہ چلتا ہے۔ایک کتاب کو دیکھ کر یہ یقین ہوتا ہے کہ اس کا مؤلف کوئی ضرور ہے۔مگر اتنے بڑے شیرازہ عالم کے مؤلف کا یقین نہ کرنا کیسی بے وقوفی کی بات ہے۔باجرے کا ایک خوشہ لے کر اس میں سے ایک دانہ نکال کر پھر اس جگہ لگا کر تو دکھاؤ۔تربوز ریتے میں ہوتا ہے مگر کیامجال ہے کہ اس کے اندر ایک ذرہ بھی جائے۔پھر کیسا شیریں ہوتا ہے۔توت (بیدانہ) کو دیکھو آندھیوں کے موسم میں ہوتا ہے مگر اس پر گرد نہیں۔گولر کے اندر کس قدر کیڑے ہوتے ہیں۔غرض نظام عالم کی ہر ایک چیز باوجود کمال بے تعلقی تعلق کمال رکھتی ہے۔اور ہر چیز کاایک حد کے اندر ایک ضابطہ کے ساتھ کام دینا ایک مرتب و منتظم کا یقین دلاتا ہے۔خدا کی آواز چوتھی دلیل جو ہے سب سے زبردست اور میرے اپنے ذوق کی ہے کہ خدا کی آواز پہنچ جائے کہ میں ہوں۔چنانچہ میں نے بھی سنی۔اس نے فرمایا کہ قرآن کی آیت کا منکر کوئی ہو۔اور وہ مشکل سے مشکل آیت کے متعلق کوئی سوال کرے اور مجھے نہ آتا ہو تو معاً اس کا علم تجھے سکھادیں گے۔یہ خدا کا وعدہ ہے اور میں بڑے زور کے ساتھ پیش کرتا ہوں کہ تمام جہاں بھی اگر مل کر کسی آیت قرآنی کے معنے پوچھے اور اعتراض کرے تو اگر وہ منکر آیات قرآنی ہوگا تو مجھے ضرور جواب سمجھادیا جاوے گا۔میں ایک عاجز انسان ہوں میرا علم اتنا بڑا نہیں۔پس میں اتنا دعویٰ جو کرتا ہوں یہ اس باری تعالیٰ سے ہے جس کی ہستی کی دلیل طلب کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام کی اعلیٰ تعلیم فرمایا۔تمام مذاہب عالم میں سے یہ مابہ الامتیاز اسلام ہی کو حاصل ہے کہ اس کے اصول کی منادی پانچ بار بآواز بلند کوٹھوں کی چھت پر چڑھ کر کی جاتی ہے۔