ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 222
شیعہ صاحب کا خط جناب مرزا غلام احمد صاحب کا ابتدائی دعویٰ محد ثیت اور پھر مجددیت اور بعدازاں مثیل مسیح اور آخر الامر مسیح ابن مریم اور مہدویت و نبوت کا تھا جو ان کے رسالہ جات وغیرہ اشتہارات سے پایا جاتا ہے۔جناب مولوی نور الدین صاحب اس کے معتقد ہیں اور اسی بناء پر آپ قائم مقام اور خلیفۃ ا لمسیح ہیں۔و نیز اس امر کا بھی اظہار فرماو یں کہ یہ خلافت منصوصی ہے تو کس کی طرف سے۔بعد تصفیہ مابہ النزاع صدر مقام لاہور میں واسطے مناظرہ تقریری عام جلسہ میں جس میں علمائے ہر فرقہ شامل ہوں اور حکم مقرر ہوں ایک تاریخ مقرر کی جاوے۔جس کا انتظام سرکاری بھی ہونا چاہیے اور اگر جناب مولوی صاحب چاہیں تو دہلی میں بھی ایسا جلسہ قائم ہو سکتا ہے۔احقر فتح علی شاہ جواب از جانب حضرت خلیفۃ المسیح و المہدی ’’ہم کو تحقیق ہمیشہ مد نظر ہے اور اب میری عمر ستر ۷۰ سے متجاوز ہے بہرحال مرنا قریب ہے اگر ہمیں کوئی حق کی راہ مل جائے تو ہم غلطی پر ہٹ نہ کریں گے۔ان شاء اللہ تعالیٰ۔مگر حَکم کس مذہب کا ہوگا اور اس پر کس طرح اعتماد ہوگا۔‘‘ نور الدین (ماخوذ از سفر ملتان نمبر ۱۔البدر جلد ۹ نمبر۴۰ مورخہ ۴؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۶،۷) خنزیر کو چھونا ایک ویٹرنری اسسٹنٹ نے دریافت کیا کہ خنزیر ہینڈل کرنا، اس کا خون نکال کر اناکیولیٹ کرنا یا اس کا پوسٹ مارٹم ایک مسلمان کے واسطے جائز ہے یا نہیں؟ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ جائز ہے۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے لحم خنزیر میں لحم کا لفظ بے فائدہ نہیں رکھا۔بلکہ خدائے علیم و خبیر جانتا تھا کہ آئندہ کیا کیا ضرورتیں پیش آئیں گی۔(البدر جلد ۹ نمبر۴۲ مورخہ ۱۱؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ۲)