ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 218
افسوس ہمارا داماد موچی یا میراثی ہے۔مگر بڑوں سے غلطی ہوئی کہ لڑکی دے دی۔یہ ان کا حال ہے۔اللہ تعالیٰ رحم فرماوے۔تکبر بڑائی نے یہ کام کرائے۔نور الدین ۱۲؍جولائی ناجائز کمائی کا مال ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا ناجائز کمائی کا مال مسجد اور کنوئیں پر لگایا جا سکتا ہے۔حضرت نے جواب میں تحریر فرمایا۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اللہ تعالیٰ طیب ہے طیب مال کو پسند فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ غنی بے نیاز ہے خبیث اور خبیث مال کی اس کو کیا پرواہ ہے۔یہ چندے میرے خیال میں لوگوں کی بھلائی کے لئے ہوا کرتے ہیں وَاِلَّا اللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز محتاج نہیں۔کوئی شخص کسی غلطی میں گرفتار ہو یا گرفتار ہوا۔اور ہو چکا۔اور اب وہ سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو وہ شخص اپنے مشتبہ مال کو للہ فی اللہ دل سے نیک کام میں لگادے تو امید ہے کہ ضرور ہی اللہ تعالیٰ اس کی توبہ اور اس مال کو توبہ کی بناء پر قبول کرے۔مگر جو لوگ توبہ میں نہیں لگے خوف الٰہی نے غلبہ نہیں پایا تو آپ ان کے اس مال کی طرف کیوں متوجہ ہیں۔آپ خود توبہ کریں۔دنیا کے کام نہیں رکتے تو دین کے کام کیونکر رک سکتے ہیں۔دنیا میں مومن کافر نیک گنہگار سب موجود ہیں پورے فیصلہ کا دن آگے ہے۔اور ہے ضرور۔میں نے جو کچھ لکھا ہے بالکل دل سے لکھا ہے آپ اس پر غور کریں۔مشتبہ مال والا اگر اپنے کاموں سے سچا تائب ہے تووہ شخص اپنے مشتبہ مال کو اللہ کے سپرد کرے، الٰہی کاموں میں لگاوے اور اگر سچاتائب نہیں اور اس کا مال اسے محبوب ہے تو وہ چند روز عیش و عشرت میں لگا ہوا۔آپ اس کے حال پر اسے رہنے دیں اور اس کا معاملہ حوالہ بخدا کریں اور وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، آپ اس کے مال کا خیال بھی نہ کریں۔نور الدین ۱۲؍جولائی ۱۹۱۰ء (البدر جلد۹نمبر ۳۹و ۴۰ مورخہ ۲۱،۲۸؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۳)