ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 211 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 211

کمزوری دکھائی ہے۔صفحہ ۸۸ حجم قیمت ۴؍پسندیدہ امیر المومنین۔آپ نے مندرجہ ذیل تفریظ کی ہے۔میں نے اس کتاب کو پڑھا کتاب ہر ایک پہلو میں مجھے پسند ہے۔جَزَی اللّٰہُ الْمُصَنِّفَ نور الدین (البدر جلد ۹ نمبر ۲۸ مورخہ ۱۲؍ مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۷) البلاغُ مِنَ الشَّاہدِ اِلَی الغائبِ ذیل میں حضرت خلیفۃ المسیح سلمہ اللہ تعالیٰ کے چند وصایا اور نصائح کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے جو میرے محترم بھائی منشی فرزند علی صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح مد ظلہ تعالیٰ کے ایک ارشاد ہی کی تعمیل میں بغرض اندراج بھیجا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ حضرت کے ان وصایا کو بہتوں نے سنا اور یہ جوش مکرمی منشی فرزند علی صاحب ہی کو خدا نے دیا کہ وہ اس ارشاد کی تعمیل کریں۔میں منشی صاحب کا ازبس شکرگزارہوں اور ان کے لئے دعا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک ایسے فرض کو ادا کردیا ہے جو اس جلسہ میں سننے والوں میں ان میں سب کے ذمہ تھا۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے۔آمین (ایڈیٹر) بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم ۲۷ ؍مارچ ۱۹۱۰ء کی صبح کو جو سالانہ جلسہ دارالامان کا آخری روز تھا حضرت خلیفۃ المسیح نے مسجدمبارک میں نماز کے بعد جماعت کو چند نصائح کیں اور حکم دیا کہ شاہد غائب کو اطلاع دے۔اس حکم کی تعمیل میں میں آپ کی تقریرکا خلاصہ بھیجتا ہوں تا کہ آپ اسے اخبار میں شائع کر کے جماعت تک پہنچائیں۔حضرت نے فرمایا :۔جماعت کو چند وصایا اور نصائح عمر کا اعتبار نہیں۔اگلے سالانہ جلسے تک معلوم نہیں ہم میں سے کون رہے کون نہ رہے۔اور تم میں سے جو زندہ رہے وہ آئندہ جلسے پر آئیں یا نہ آئیں۔اس لئے میں تمہیں چند باتیں بطور وصیت کے کہنا چاہتا ہوں جو لوگ موجود ہیں توجہ سے سنیں اور دوسروں کو پہنچائیں۔لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْل اللّٰہ کو مضبوطی سے پکڑو۔اللہ تعالیٰ کو ذات میں،اسماء میں، صفات میں یکتا جانو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔