ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 201 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 201

ہو جاوے۔اسی طرح انسان کو چاہیے کہ تمام تکبر اور بڑائی کے خیالا ت کو دور کر کے عاجزی اور خاکساری کو اختیار کرے۔اور دوسرا یہ ہے کہ پہلے تما م تعلقات اس کے ٹوٹ جائیں جیسا کہ پہاڑ گِر کر مُتَصَدِّعًا ہو جاتا ہے اینٹ اینٹ جدا ہو جاتی ہے۔ایسا ہی اس کے پہلے تعلقات جو گندگی اور الٰہی ناراض مندی کا موجب تھے سب ٹوٹ جائیں اور اب اس کی ملاقاتیں اور دوستیاں اور محبتیں اللہ تعالیٰ کے لئے رہ جاویں۔آنحضرتؐ کا مقام اور ایک عظیم الشان پیشگوئی فرمایا۔سورۃ اَلَمْ تَرَ کَیْفَمیں آنحضرت ﷺ کا قدر اور مرتبہ ظاہر کیا ہے۔یہ سورۃ اس حالت کی ہے جب سرور کائنات ﷺمصائب اور دکھ اٹھا رہے تھے۔اللہ تعالیٰ اس حالت میں آپ کو تسلی دیتا ہے کہ میں تیرا مؤید وناصر ہوں۔اس میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے ربّ نے اصحاب الفیل کے ساتھ کیا کیا یعنی ان کو اپنے منصوبہ اور تجویز میں نامراد رکھا اور ان کا مکر اٹھا کر ان پر ہی دے مارا۔اور چھوٹے چھوٹے جانور ان کے مارنے کے لئے بھیج دئیے ان جانوروں کے ہاتھوں کوئی بندوقیں نہ تھیں بلکہ مٹی تھی۔سجیل بھیگی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں۔اس سورۃ شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو خانہ کعبہ قرار دیا ہے۔اور بتا یا ہے کہ جس طرح پر اصحاب الفیل کے حملہ سے بیت اللہ محفوظ رہا اسی طرح پر تو ان مشرکین اور مخالفین سے محفوظ رہے گا اور تیری کامیابی یقینی ہے تو منصور اور مؤید ہو گا۔یعنی آپ کی ساری کارروائیوں کو برباد کرنے کے لئے جو سامان آپ کے مخالفین کر رہے ہیں اور جو تدابیر عمل میں لاتے ہیں ان کے تباہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ان کی ہی تدبیروں اور کوششوں کو اٹھا کر انہیں ہلاک کر دے گا اور تیری ضعیف اور کمزور جماعت ان پر غالب رہے گی۔جیسے ہاتھی والوں کو ابابیلوں نے تباہ کر دیا۔زندگی وموت اور کامیابی و ناکامی (الملک:۳) یعنی موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ ہم تمہیں آزمائیں۔کامیابی اور ناکامیابی بھی زندگی اور موت کا سوال ہوتا ہے کامیابی ایک قسم کی زندگی ہوتی ہے۔جب کسی کو اپنے کامیاب ہونے کی خبر پہنچتی ہے تو