ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 193
بھی بیٹھتا ہے ساہو کار بیٹھ گیا بھی بولتے ہیں حلق بیٹھ گیا دیوار بیٹھ گئی مگر ہر بیٹھنے کے جدا جدا معنے ہیں۔پس اللہ (الشوریٰ:۱۲)اس کا قرار اور بیٹھنا بھی ہی ہے۔غرض موصوف کے لحاظ سے معنے ہوتے رہتے ہیں۔امام مالک سے کسی نے استویٰ کے معنے پوچھے تو فرمایا المعنی معلوم والکیف مجہول۔عرش مخلوق نہیں قرآن مجید میں کوئی ایسی آیت نہیں جس سے اس کا مخلوق ہونا ثابت ہو۔بخاری و مسلم مؤطا طبقہ اوّل اور ترمذی، نسائی ،ابو دائود و طبقہ ثانی کی کتابوں میں بھی کوئی ایسی حدیث نہیں جس سے اس کی مخلوقیت ثابت ہو سکے۔میں نے ایک دفعہ حضرت امام ؑ سے پوچھا کہ ربّ العرش سے عرش کا مخلوق ہونا معلوم ہوتا ہے یا نہیں۔فرمایا ربّ العزت بھی آیا ہے تو کیاخدا اپنی صفت ازلی عزت کا بھی خالق ہے ؟ پس استویٰ علیٰ العرش کے معنے ہوئے خدا کی تجلیات کاملہ میں کوئی عیب نہیں کیونکہ عرش مظہر ہے اس مقام کا جہاں اوّلاً تمام احکام و صفات کاملہ کا اتم طور پر ظہور ہوتا ہے۔در بارشاہی میں سب سے پہلے احکام صادر ہوتے ہیں۔(یوسف:۱۰۱)کے بھی میرے نزدیک یہی معنے ہیں کہ یوسف ؑ اپنے والدین کو دربار شاہی میں لے گئے۔۲۔اعتداء فی الدعا کی تین اقسام اعتدا ء فی الدعا ء تین قسم ہے۔ایک چلا کر دعا مانگنا اس لئے فرمایا۔(الاعراف:۵۶)۔دوم۔ایسی طرز کی دعا جو قرآن مجید و سنت نبوی کے خلاف ہو مثلاً ایک شخص جو عہد نبوی میں دعا کر رہا تھا۔اے خدا مجھے بہشت نصیب کر اور اس میں ایسے مکان ہوں۔نبی کریم ﷺ نے اسے منع فرمایا کہ تو جنت الفردوس مانگ لے۔ایسا ہی اس قسم کی دعائیں کہ مجھے خدا بنا دے یا عورت بنا دے وغیرہ۔سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ کی باندھی ہوئی حدود کی پرواہ نہ کرنا اور دعا ہی کئے جانا۔۳۔سب سے بڑا گناہ فرمایا کہ گناہ تو ہر وقت کا بُرا ہے۔مگر وہ گناہ سب سے بُرا ہے کہ جب کوئی مامور اصلاح کے لئے آیا ہو تو اس کی اصلاحوں کی مخالفت کی جاوے۔وہ وقت خاص طور پر توجہ الٰہی کا ہوتا ہے۔(الاعراف:۵۷)۔