ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 188
میں ان مباحثات کو قلع قمع کر نے کے لئے جو کام کیا اس سے فائدہ اٹھانے والے بھی ہمارے علماء میں تھوڑے ہیں اگر میں اس لئے کہ تحدیث نعمت اللہ بھی ضروری ہے اس تحدیث کو مدنظر رکھ کر یہ کہہ دوں کہ تیرہ سو برس میں جو مناظر ے مخالفین سے ہوئے ہیں ان میں اپنے دشمنوں کے مقابل اور قرآن کریم کے منکروں کے سامنے قرآن کریم ہی کے ذریعہ دشمن کو جواب دینے کے لئے جو توفیق مجھے ملی ہے اور وہ فصل الخطاب، نو ر الدین، ابطال الوہیت مسیح، تصدیق براہین احمدیہ کے ذریعہ سے کسی قدر ظاہر ہو سکتی ہے مگر ہمارے اکثر علماء نے ان تمام چیزوں سے کم فائدہ اٹھایا ہے تو اتنا ہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان کے نزدیک ایک پکے بے ایمان اور اسلام کے دشمن ہیں اور ہماری کتابوں کا دیکھنا بھی جائز نہیں کہ وہ لاشے محض ہیں بلکہ مضر اور سخت مضر ہے تفسیر کبیر نے (البقرۃ:۱۱۴) کے نیچے ایک بڑا قابل قدر نکتہ لکھا ہے۔ا مام رازی کو امام یقین کرنے والے لوگ اگر چاہیں تو اس سے بہت بڑا فائدہ اٹھا ئیں۔ہند سے باہر جو کچھ کہ مجھے معلوم ہے۔شیخ ابن تیمیہ نے عیسائی مذہب کے مقابل الجواب الصحیح لمن بدّل دین المسیح اور شیعوں کے مقابل منہاج السنّت اور اس سوال کے جواب میں کہ نقل صحیح اور عقل صحیح دونوں کی مخالفت نہیں ہو سکتی۔کتاب درء تعا رض العقل والنقل چار چار مجلد میں لکھیں جو خدا کے فضل سے ان دنوں چھپی ہوئی بھی ہمارے سامنے ہیں اور یہ بہت بڑا فضل جناب الٰہی کا ہے اور ان کے تلمیذ شیخ ابن قیم نے ہدایۃ الحیارۃ فی رد علی الیہود والنصاریٰ اور نونیہ جیسی کتابیں لکھ کر اسلامیوں پر بہت احسان کیا ہے۱؎ ہمارے ملک میں جس علم کلام کی اس وقت ضرورت ہے وہ صرف پانچ قوموں کے ساتھ بیرونی جنگ ہے۔اوّل۔عیسائی مسیحی لوگ ان کا ایک مسئلہ الوہیت مسیح اور کفارہ اور پھر ان کی یہ آزادی کہ ان پر کوئی شریعت حکمرانی نہ کرے بس تین مسئلے ہیں جن پر ہمیں مباحثہ کی ضرورت ہے۔اور اسلامیوں پر جو یہ الزام دیتے ہیں کہ ہم ان کے اس مجموعہ کے مصدق ہیں۔اس کا جواب دیں۔۱؎ مگر مولوی صاحبان نے ان کو کافر بے دین اور نکما قرار دیا اس زمانہ میں شبلی صاحب بھی فرمائیں۔۔۔