ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 162 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 162

ایک قانون دان فلاسفر کے چند سوالات کے جوابات سوالات ۱۔کیا کوئی غیر مسلم فرمانروا اپنی مسلمان رعایا کے لیے وضع قانون کر سکتا ہے؟ ۲۔کیا کوئی غیر مسلم جج ازروئے قانون اسلامی مسلمانوں کے مقدمات فیصل کر سکتا ہے؟ کیا تاریخ اسلامی میں کسی ایسے غیر مسلم جج کی نظیر موجود ہے جو بحیثیت عہدہ مسلمانوں کے مقدمات فیصل کرتا ہو۔۳۔کیا مسلمان ہونے کے لئے شرع محمدی کی پابندی لازمی ہے؟ اگر ہے تو ان مسلمان قوموں کی نسبت کیا حکم ہے جن کے معاملات زیادہ تر رواج سے فیصل پاتے ہیں اورجو خود اپنے آپ کو رواج کا پابند ظاہر کرتی ہیں۔۴۔مسلمانوں کا ضابطہ تعزیری قریباً قریباً بالکل معطل ہے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دیگر اسلامی ممالک میں بھی۔کیاا س ضابطہ کی پابندی ضروری ہے؟ اگر ہے تو جو مسلمان اس کے پابند نہیں خود اس وجہ سے کہ وہ کسی غیر مسلم بادشاہ کے محکوم ہیں جو اس ضابطہ کا پابند نہیں ہے؟ یا کسی اور وجہ سے ان کے اسلام کی نسبت کیاحکم ہے؟ جواب مکرم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ خاکسار مختصرنویس ہے پس میری کمزوری کو مدّنظر رکھیں اور قبل اس کے کہ میں اصل سوالوں کا جواب دوں چند مختصر سے اصول عرض کرتا ہوں جو غالباً کسی اور ثبوت کے علاوہ مذکور ثبوت کے محتاج نہیں اگر ان میں کوئی قابل ہو تو بلاتردد آپ مجھے آگاہ کریں۔۱۔قرآن کریم ایک کافی کتاب ہے اس کا ثبوت  (العنْکبوت :۵۲)۔