ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 136
کی خاطر داری کے لئے جو کچھ بن پڑے کرنا۔اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اسلام کو پالیٹکس سے کوئی تعلق نہیں اور موجودہ صورت میں تو پہلے مسلمانوں کو مسلمان ہونے کی ضرورت ہے جب مسلمان ہوجاویں تو پھر پالیٹکس کی طرف توجہ کریں۔جب مسلمان نہیں تو ان کی جدوجہد اسلام کے لئے مفید نہیں کیونکہ جدوجہد کرنے والے جب مسلمان نہیں توپھر اسلام کو کیا فائدہ۔وحدت کیسے آئے گی ؟ یاد رکھو مسلمان ہونا موقوف ہے وحدت پر اور وحدت آتی ہے تعلیم سے اور تعلیم قرآن سے۔پہلے قرآن کو قائم کرلو مسلمان بن جاؤ۔جب مسلمان بن گئے تو وحدت کا ہونا لازمی ہے جب وحدت آگئی تو پالیٹکس خودبخود تم میں پیدا ہوجائے گا۔ہنوز اس قسم کی کوشش قبل از وقت ہے۔مسلمانوںکے لئے فی الحال تو دین ضروری ہے اسلام میں سلطنت ضروری نہیں۔کیا مکہ میں مسلمان نہ تھے حبشہ میں مسلمان نہ تھے اور یہ جو کہتے ہیںکہ ہندو ہمارے حقوق لئے جاتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ کیا عر ب تمام کفار کا نہ تھا۔لیکن جب مسلمانوں نے قرآن کو قائم کیا ان میں وحدت آگئی تو کفار کا کچھ بھی زور نہ رہا بلکہ ان کی حاصل کردہ چیزیںان مسلمانوں کو مل گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زمین میں عشر (الانعام : ۱۴۲) جب کاٹو جو کچھ زمین پر سرکاری اور کسی مالک کے حقوق ہیں ادا کرو۔اس ملک میں اکثر زمینیں خراجی ہیں جن پر انگریزوں کا خراج کوئی نہیں۔ان کا … ساڑھے بائیس من نصاب اہل حدیث کے نزدیک اور حنفی نصاب کے قائل نہیں۔معاملہ سرکاری جہاں ہے وہ زمین خراجی ہے۔خراج اور عشر دونوں جمع نہیں ہوتے۔بھاولی کیا معنے؟ پانچویں حصہ پر زمین لینے والا تو زمین کا مالک ہی نہیں وہ صرف مزدور ہے اگر ان مسائل میں ترددد ہو تو دلائل لکھوں گا۔نمبر۲:۔شرع اسلام میں اور فقہاء حنفیہ کے کتب میں جو امر مجھے معلوم ہے وہ یہ ہے کہ ایک