ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 135 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 135

ملنے سے بھی رہے۔فوراً آپ پاکپتن چلے گئے۔فرمایا۔اگر یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے تو دہلی والے بھی چل کروہیں آ جاویں گے چنانچہ پاکپتن مرکز چشتیاں ہوگیا۔صرف اس لئے کہ وحدت تھی، ایک امام کے تابع تھے۔اس تقریر سے کم از کم یہ نتیجہ تو نکلتا ہے کہ ایک امام کی ضرورت ہے جو وحدت پیدا کرے۔بنگالی مسلمانوں میں وحدت نہیں دیکھو بنگالی کہنے کے ساتھ ہی یہ خیال آجاتا ہے کہ کوئی ہندو ہے حالانکہ مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔بات یہ ہے کہ ہندوؤں کا کوئی لیڈر ہے اور وہ وحدت کی لذتوں سے آشناہیں۔سارے بنگال میں مسلمانوں کے کتنے کالج ہیں؟ کیوں نہیں؟ اسی لئے کہ وحدت نہیں۔مسیح موعودؑ کی آمد کا مقصد مسلمانوں میں وحدت پیدا کرنا ہے ہمارے حضرت صاحب کا مقصد مسلمانوں میں وحدت پیدا کرنا ہے لوگ کہتے ہیں کہ تم شیرازہ قومی بکھیر رہے ہو۔یہ غلط ہے بلکہ بکھر گیا تھا اس کو جمع کر رہے ہیں۔ایک شخص مجھے ریل میں ملا اور اس نے کہا آخر تم بھی تفرقہ اندازی ہی کر رہے ہو۔میں نے کہا آپ کی کیا غرض ہے؟ کہا ہم چاہتے ہیں سب مسلمان متحد ہو جاویں۔میں نے کہا بڑا مبارک مقصد ہے مگر آپ کامیاب کیوں نہیں ہوتے؟ کہا یہ مولوی کچھ نہیں کرنے دیتے۔پھر میں نے جو چھیڑا تو فقراء اور امراء کو ایک ایک کر کے گالیاں دینی شروع کیں۔جب سارا جوش نکال چکا تو میںنے کہا۔بندہء خدا! دو آدمی بھی تمہارے ساتھ ہیں؟ کہا نہیں۔میںنے کہا سوچو! کیا تم شیرازہ قومی اکٹھا کرنے والے ہو؟دیکھو! تم نے کتنے لوگوں کو اپنے سے جدا کیا اور ہم نے تو پھر اتنی جماعت جمع کرلی ہے۔اسلام کو پالیٹکس سے کوئی تعلق نہیں یہ جو آپ پوچھتے ہیں کہ مسلمانوں کو پالیٹکس کی ضرورت ہے یا نہیں۔میں آپ کو پالیٹکس کے کئی معنے بتا چکا ہوں جس سے آپ پر واضح ہوگیا کہ میں پالیٹکس کے مفہوم کو خوب سمجھتا ہوں۔ازاںجملہ ایک یہ ہے کہ ایک مذہب یا ایک سلطنت یا ایک شخص