ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 108 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 108

حماۃ الاسلام گزرے ہیں اور دور دراز اوطان سے مصائب سفر و غربت اٹھا کر اس ملک کی ہدایت کے باعث ہوئے۔رَحِمَہُمُ اللّٰہُ وَجَزَاھُمْ عَنَّا اَحْسَنَ الْجَزَائِ۔ان کی مقدس تصنیف جان بخش موجود ہے۔ہمارے امام نے خصوصیت تحریر و تقریر و توجہ سے اس مقد س کام کو جس خوبی سے کیا عقل حیران رہ جاتی ہے اپنی زندگی میں لاکھوں میں اسرافیلی کام کیا اور ایک گراں بہا خزانہ تحریر کا پیچھے چھوڑا وہ بے سود نہیں جیسے ایک ……سے کہتا ہے اور ڈرا نہیں کہ ایسے بے باکو ں کو اللہ تعالیٰ… (البقرۃ:۱۱۴) فرماتا ہے۔اس خزانہ سے لوگوں کو متمتع کرنے کے لئے ضرورت ہے ایسے ٹریکٹوں کی جنہیں میگزین کے اعلیٰ اعلیٰ مضامین اور تصانیف حضرت اعلیٰ مقامات کا ترجمہ کر کے بلا د دور دست میں شائع کیا جاوے۔سر دست ایک سو روپیہ اس کام کے لئے علاوہ اس چند سو روپیہ کی رقم کے جو میں نے تقریر جلسہ اعظم اور انتخابات گورو صاحب کے لئے دئیے ہیں اس لئے دیتا ہوں کہ (البقرۃ:۴۵)کا مصداق نہ بن جائو ں۔وَاللّٰہُ الْمُوَفِّقُ وَ مَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ اِلَیْہِ اُنِیْبُ ہاں مقبرہ کی آمدنی بھی ایسے ہی کاموں کے لئے ہے اس میں سے دیا جاوے۔نور الدین ( البدر جلد ۸ نمبر۲۹ مورخہ ۱۳؍مئی ۱۹۰۹ء صفحہ ۳) حضرت خلیفۃ المسیح کا ارشاد عالی مکرم معظم حضرت میر صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کے کاموں اور خواہشوں کو دیکھ کر میری خواہش ہوتی اور دل میں بڑی تڑپ