ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 87
ساکت ہوئے۔آخر میرے اصرار پر وہ عبری دان بولے۔آپ کو جنون ہے ہم تو طب پڑھ کر روپیہ جمع کریں گے اوربس کہاں کا بکھیڑا۔مذہب مذہب یا قوم!یاقوم !۔علی گڑھ والے بولے ہم نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اب پلیڈری کریں گے تو روپیہ جمع کر کے بیرسٹری کے لئے ولایت جائیں گے۔اب مجھے گھبرا کر کچھ کہنے کا ارادہ تھا کہ ایک پیر صاحب بولے۔اٹھیے ہمارے مرید بہت ہیں ہم تمہارے منشا کے مطابق قرآن کریم ان کو سنایا کریں گے۔آخر جلسہ مابین نا کامی و کامیابی (پیر صاحب کے بھولے پن کی مہربانی )برخواست۔ایک اور صاحب علی گڑھ میں انگریزی و سنسکرت پڑھتے تھے اور برہمن کا خون بھی ان میں تھا مجھے فرمایا کہ یہ مردہ زبان ہے اور اس کے پڑھانے والے احمق پنڈت ہیں، میں اب نہیں پڑھ سکتا۔آخر پلیڈر بن گئے۔اب ان کی یہ حالت ہے کہ ایک آشنا کو پرا ئیویٹ خط میں کہتے ہیں کہ قادیانی لوگ لائق تھے مگرکود کر اسلام سے نکل گئے۔اور خود نہ نماز، نہ روزہ، نہ زکوٰۃ، نہ حج اور نہ قرآن کریم کا فہم۔یہ تہذیب اور شائستگی وہاں سیکھی۔سید احمد خاںمجھے جانتے تھے اور میں ان کو اچھی طرح جانتا تھا۔ان کی ’’الدعا و الاستجابت‘‘ پر میری تحریک سے ’’برکات الدعا‘‘ رسالہ نکالا تھا۔جس کے بعد انہوں نے خط و کتابت کا سلسلہ مجھ سے زیادہ کر لیا اورقریب ایام مرگ مجھے لکھا کہ بدون نصرت الٰہیہ اور دعا کہ کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔آخر جناب میرے دل پر یہ خیال پیدا ہوا۔تاریخ کو الٹ پلٹ کر دیکھ۔مصلحین کے آثار دیکھ۔یہ طریق جو تم نے نکالے کب کامیابی اور اصلاح قوم کا باعث ہوئے؟ کیا یورپ میں پوپوں، پادریوں، شہزادوں سے اصلاح ہوئی۔الاسلام اللہ سے جس کا نام السلام۱ ہے۔جبرائیل کی معرفت جس کا نام مطا۲ع ہے۔محمد رسول۳ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے جس کو (المائدۃ : ۶۸) قرآ۴ن میں جس کو (حٰمٓ السجدۃ :۴۳) کہا گیا۔حر۵مین میں جس کے حق میں اَمْنًا آگیا ہے آیا اور اس کا ثمرہ دارالسلا۶م ہے تو کیوں یہ معدوم ہو نے لگا؟