ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 83 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 83

اوّل:۔یادرکھنا چاہئے کہ قرآ ن کریم استدلال بالاولیٰ سے زیادہ کام لیتا ہے۔قرآن کریم نے ہر اثم کو حرام فرمایا ہے اور شراب کو اثم کبیر قرار دیا ہے پس شراب بطریق اولیٰ حرام ہوئی۔دوم:۔عام دربار سلطانی میںجہاں سب کو جانے کی اجازت ہوتی ہے اگر کسی شخص کو روکا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص بہت ہی زیر عتاب ہے۔جب کہ عام دربار میں جانے سے روکا گیا وہ انسان بہت ہی ذلیل ہوتا ہے پھر شرابی کو دیکھو حکم ہے کہ  (النساء : ۴۴) مسجد کے قریب نہ جانے پائے جو چیز اس قدر ذلیل کردیتی ہے اس کا جواز کہاں سے ثابت ہوا۔سوم :۔شراب تمام قویٰ انسانی کو ایک زبردست تحریک کرتی ہے اور اپنا مطلوب چاہتی ہے ہر ایک قوت کا مطلوب بہم پہنچنا محال ہے اس لئے شراب کی حرمت صاف ہے۔بیمار دل جو دل ایمان، نماز اور نیک کاموں سے حظ نہیں اٹھاتا وہ اپنا علاج کرے کیونکہ وہ بیمار ہے جیسے بیمار کو عمدہ سے عمدہ اشیاء بھی اچھی نہیں لگتی ہیں اسی طرح پر وہ دل روحانی بیماریوں میں مبتلا ہے۔چار کی صلاح اور اجازت جب کوئی کام کرنے لگو تو چار کی ضرور صلاح لینی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کی اجازت ، رسول اللہ ﷺ کی اجازت، اولوالامر کی اجازت اپنے وجدان، فطرت اور عقل کی اجازت۔شرک اور مشرک مشرک آدمی سچے اسباب تلاش نہیں کرتا اور نہ سچے نتائج حاصل کرسکتا ہے مشرک جہالت ہی میں پھنسا رہتا ہے۔شرک سے اختلافات اور متفرقات اور نفاق پیدا ہوتے ہیں۔وضو کی حقیقت نماز ایک قسم کا معاہدہ اور حضور الٰہی میںدعا کرنے کا موقع ہے وضو کی حقیقت یہ ہے کہ جب انسان پہلے ہاتھ دھوتا ہے تو اس سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں تمام گناہوں سے ہاتھ دھوتا ہوں خصوصاً ان گناہوں سے جو ہاتھ سے سرزد ہوتے ہیں۔پھر منہ میں پانی ڈال