ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 52
میں پھر جناب کو عرض کرتا ہوں کہ جناب کثرت دعا اور کثرت استغفار کے بعد بہت تدبر اور غور سے کام لیں۔فَاُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فَقَدْ فَازَ الْمُتَّقُوْنَ۔وَاِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَالَّذِیْنَ ہُمْ مُحْسِنُوْنَ۔۵؍نومبر ۱۸۹۹ء۔( الحکم جلد۳ نمبر۴۲ مورخہ ۲۴؍ نومبر ۱۸۹۹ء صفحہ ۱ تا ۳) مولا کریم کی ہستی پر چند باتیں ہمیں جس قدر قویٰ عطا ہوئے وہ سب کے سب مفید اور مثمر ہی ثابت ہوئے خود ہمارے تمام علوم ہمارے حواس خمسہ اور ہمارے قویٰ طبعیہ سے شروع ہوئے ہیں۔بصر، اذن، لامسہ، شامہ، ذائقہ، اعضاء تنفس، قوت جذب شیر، مصورہ سب کے سب مفید ثابت ہوئے۔سمع ہی سے پہلے میں نے اپنے اللہ ربّ العالمین ، رحمن، رحیم، مالک یوم الدین کا نام سنا۔اور آج بعد ترقیات جوغور کیا تو تمام علوم کے آلات اور دنیوی انتظامات میں سمع ہی کو یا سمع کو بھی ایک عظیم الشان آلہ پایا۔ماں باپ کو سمع سے ماں باپ یقین کیا۔اور ان کے اموال، عزت قوم سے اس یقین پر نفع اٹھایا۔اساتذہ کے پاس سمع کے بعد پہنچے، سیروسیاحت، تجارت و زراعت، ملازمت کی جڑیں سمع سے شروع ہوئیں۔زبان سمع سے سیکھی ہاں امّاں، ابّا پانی سمع سے پایا۔یہ ضرور ہے کہ سمع میں غلط جڑیں اور غیر واقعی امور بھی پہنچتے ہیں۔مگر ایسے مشکلات علوم صحیحہ سے مانع نہیں ہو سکتے ایک کی غلط بیانی دوسرے سے دریافت پر معلوم ہو سکتی ہے والّا تیسرے سے وَہَلُمَّ جَرًّا … مولیٰ تیرانام سنا امّاں سے ابّا سے اخوان سے احباب سے اساتذہ سے اور تجھے عین حسب الفطرت مانا اور تجھ پر یقین کیا کہ تو ہے اور ضرور ہے پھر بڑے ہوئے اور آزاد ہوئے تو تیرا ہونا ان سے سنا جنہوں نے تجھ سے یا جن سے تو نے مکالمہ کیا اور ان کی سامعہ کو اپنے کلام سے معزز و مسعود فرمایا۔پھر بڑھے تو اسلام، نصرانیت، یہودیت، مجوسیت (یعنی مجوس الایران والہند) آریہ، براہمہ سے آخر اسلام کے امام الوقت راستباز سے پھر آخر تو جانتا ہے کہ تجھ سے ہاں تجھ سے