ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 51 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 51

آپ کی رؤیا بین اوّل ظَالِمُوْا اَنْفُسِہِمْ ہے جو آپ اب اسی لفظ کو قرآن میں ایک جگہ ملاحظہ فرمائے۔(فاطر : ۳۳) اِلّا آپ کا رئویا اور خواب پورا صاف بھی نہیں کیونکہ اس کا بہت حصہ آپ کے فہم میں نہیں آیا اور اس کی مبین وہ رئویا صالحہ بکثرت اور ملہمین کی موجود ہیں جن کو بطور مشتے از خر وارے بسبیل ڈاک روانہ کرتا ہوں۔آپ اپنی رئویا کو اس سے مقابلہ دو۔پھر آپ نے سیاہ رنگ بھیڑیں دیکھی ہیں وہ قادیان کی طرف جاتی ہیں اور وہ عذاب ہے جو قادیان کی طرف چلا جاتا ہے۔مولانا اوّل تو بھیڑیں سیاہ گوہ ( قذر) کھانے والی اور پھر وہ قادیان میں نہیں۔قادیان کی طرف انشاء اللہ تعالیٰ آپ دیکھ لیں گے کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔مگر مولانا قادیان کی طرف تو راستہ میں بہت سارے اعداء بھی موجود ہیں۔ہم نے مانا کہ وہ عذاب ہے مگر قادیان میں نہیں بلکہ قادیان کی طرف غالباً لاہور اور بٹالہ راستہ میں ہے وہاں کسی پر گرے۔اگر جناب پسند فرماویں تو میرا منشا ہے کہ آپ اس رئویا کو بذریعہ اشتہار شائع فرماویں اس اشاعت کا نتیجہ انشاء اللہ بہت عمدہ ہو گا اور غیب تو وہی عمدہ ہوتا ہے جو لکھ کر عام طور پر سامنے کیا جاوے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (الطور : ۴۲)۔آپ کی رئویا شائع کی جاوے تو آپ کو پتہ لگے کہ پیشگویوں کا پھیلنا کیسا امر ہے۔اب میں پھر آپ کے سخت کھٹکے کے باعث پر توجہ کرتا ہوں۔جناب کو شاید بائبل نہ ملے اس لئے باب نقل کر کے خدمت میں روانہ کرتا ہوں ذرا غور کرو کہ وہ بعل کے نبی تھے یا خداوند کے اور وہ روح خدا تعالیٰ کی حضور سے پروانگی لے کر ان انبیاء ؑ کے پاس آئے تھے یا بعل سے۔پھر اس راستباز نبی نے بھی پہلے انبیاء کی ہاں سے ہاں ملائی تھی یا نہیں۔پھر اگر آپ کی تسلی نہ ہوتو جناب مجھے براہ راست اطلاع بخشیں تاکہ میں جناب کو اس کی تفسیر معتبرین مفسرین کے حوالہ سے مفصل لکھ سکوں وَالْاَ مْرُ سَہْلٌ۔