ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 3
ایک دس برس گزر گئے اور ہمارے علما کچھ پتہ نہیں دیتے کہ کوئی مجدد اس پُر فتنہ وقت میں کیوں ظاہر نہیں ہوا اب ہمارے ہاتھ میں نہ کوئی کرامت ہے کہ دکھلا سکیں اور نہ وہ علم جو یورپ کے اُس فلسفہ کا مقابلہ کر سکے جو بجلی کی طرح ہم پر گرا ہے اور نہ قرآن کریم کے معجزہ کی حقیقت سے ہم واقف کہ تا وہی اعلیٰ معجزہ پیش کر دیں اور اس آگ پر کلام الٰہی کے آبدار معارف کا پانی ڈالیں اب کیا کریں اور کہاں جاویں اور کس کے آگے رو ویں ہماری روح بول رہی ہے ہمارا ذرّہ ذرّہ گواہی دے رہا ہے کہ ہم باوجود سچے ہونے کے جھوٹوں کی طرح بے عزت ہو رہے ہیں اگر ہم یہ کہیں کہ کسی وقت کرامت تھی تو یہ کیا جواب ہو گا اور اگر ہم یہ عذر پیش کریں کہ قرآ ن کریم کا معجزہ ہونا پہلے تو تھا مگر اب نہیں یا ہم اُس کا اعجاز ثابت کرنے سے قاصر ہیں تو ہم مخالفوں سے اللہ رسول اور قرآن کریم پر ہنسی کرائیں گے۔صاحبو! ایماناً کہو یہ سب باتیں سچی ہیں یا نہیں۔اے شیخو !اے پیرز ادو! اے سجادہ نشینو! ہمیں سب سبق دو ہمیں بتلائو کہ ہم اُن لوگوں کو کیا جواب دیں جبکہ وہ اپنی طبعی اور اپنے فلسفہ کو ید بیضا کی طرح دکھلا کر ہمارے مذہب ہماری کتاب ہمارے رسول پر اعتراض کرتے ہیں کیا یہ جواب کافی ہوگا کہ ہم جواب دینے سے عاجز ہیں یا ہماری کرامات ہمارے نشان آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئے ہیں کیا تم اس بات سے انکار کر سکتے ہو کہ فتنوں نے زمانہ تہ و بالا کر دیا کروڑہا کتابیں رد اسلام میں تالیف ہو چکی ہیں اور نئی ذرّیت کو یہ آگ لگتی جاتی ہے اور علم مذہب کا تعاقب کر رہا ہے اور مذہب بھاگتا چلا جاتا ہے کیا اسلام کے لئے اب ہمدردی کا وقت نہیں کیا یہ وقت نہیں چاہتا تھا کہ ع مردی از غیب برون آید و کارے بکند ایک شخص نے اس صدی کے سرپر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا جس کا نام غلام احمد قادیانی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ نہ تھکا اور نہ ماندہ ہوا اورنہ کسی سے ڈرا اور بڑے زور سے ہر روز آگے قدم رکھ رہا ہے ہمیں خوشی تھی ہمیں ذرہ بدن میں جان پڑی تھی کہ ایک شخص وقت پر تو آیا اتنے میں اس کی نسبت دجال دجال اور کافر کافر کا شور اٹھا ہم نے بہت جانچا کہ اس میں کو نسا کفر ہے مگر شخص نے اس صدی کے سرپر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا جس کا نام غلام احمد قادیانی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ نہ تھکا اور نہ ماندہ ہوا اورنہ کسی سے ڈرا اور بڑے زور سے ہر روز آگے قدم رکھ رہا ہے ہمیں خوشی تھی ہمیں ذرہ بدن میں جان پڑی تھی کہ ایک شخص وقت پر تو آیا اتنے میں اس کی نسبت دجال دجال اور کافر کافر کا شور اٹھا ہم نے بہت جانچا کہ اس میں کو نسا کفر ہے مگر کچھ معلوم نہ ہوا صاحبو ہم سخت دردمند ہیں ہمارے دل سے نعرے نکل رہے ہیں ہمارا دم درست نہیں