ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 41
توحید کا بیان توحید کا وہ بیان کہ ہادی علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی عبودیت کا اقرار ایمان کا لازمی جزو قرار دے۔کوئی انکار کر سکتا ہے کہ کتب سابقہ کے ان الفاظ نے’’ اسرائیل میرا پہلو ٹھا‘‘ ہے۔’’میرا اکلوتا بیٹا‘‘ ’’ موسیٰ خدا سا‘‘ وغیرہ وغیرہ اور سجدہ کی عام رسم نے توحید الوہیت میں نقصان نہیں پہنچایا؟ ویدوں میں اگر صاف صاف حکم ہوتا کہ سورج اور چاند اور عنصری آگ اور دیووں کو سجدہ اور عبادت نہ کرو تو یہ جھگڑا جو از یا عدم جواز بت پرستی کا آریہ ورت میں کیوں پڑتا۔اخلاق کا بیان اخلاق وہ کسی نبی پر کوئی اعتراض نہیں سب کا ماننا سب کا ادب اسلام میں ضرور ہوا۔(البقرۃ :۸۴) (لوگوں سے بھلی باتیں کہو۔) (الأَنعام :۱۰۹) (اور تم لوگ ان کو بُرا نہ کہو جو ماسوی اللہ کو پکارتے ہیں)۔اس سے بڑھ کر کون حکم ہے جو مصدر اخلاق ہو سکے؟ تعجب آتا ہے الزامی طور پر بھی قرآن عیوب کا اشارہ نہیں کرتا۔اوامر و نواہی آپ نے کوئی حکم ایسا نہیں فرمایا جس میں آج ہمیں کہنا پڑے کہ کاش اسلام میں یہ حکم نہ ہوتا۔کسی ایسی چیز سے منع نہیں فرمایا جس میں آج ہم کو یہ کہنے کی ضرورت ہو کہ کاش اسلامیوں کو منع نہ فرماتے۔تمام عمدہ اور ستھری چیزوں کی اجازت ہے کل بُری اور خبیث اشیاء سے ممانعت ہے۔نہایت پسندیدہ صفات میں عدل تھا۔(النحل :۹۱) (تحقیق اللہ تعالیٰ عدل کا حکم دیتا ہے) فرما کر اُس کی تاکید کی اور ظلم سے(ھود :۱۹) (خبردار ہو خدا کی لعنت ظالموں پر ہے) کہہ کر سخت ممانعت کی( شرک بڑا ظلم اور عدل کی ضد ہے)۔صدق میں (التوبۃ:۱۱۹) (مومنو!تقوی اللہ اختیار کرو اور صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ)کہا اور کذب کے حق میں (اٰل عمران :۶۲) (جھوٹے پر خدا کی لعنت ہے)فرمایا۔منشاء صفات کاملہ علم