ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 388
فرضاً بعینہ حضرت کا روح ہے تو بحسب (البقرۃ: ۱۷۴) اس سے گمراہی پیدا ہوگئی ہے یعنی مرئی تو وہی روح پاک ہے مگر کلام کا تمثل رائی کے خیال کے مطابق ہوا۔(۲۰)۔اگر منت مانے اور غیر اللہ کا ذکر بطور تعبد کرے یعنی سمجھے کہ اگر نہ دوں تو فقیر ولی مجھے سخت ضرر پہنچائے گا۔دے دوں تو میری مشکل حل ہو جائے گی تو وہ نذر غیر اللہ ہوئی اور ایسی اشیاء (البقرۃ: ۱۷۴) میں داخل ہو کر حرام ہیں یعنی میت و خنزیر کے برابر ہے روٹی ہو یا بکرا خواہ بسم اللہ اللہ اکبر پڑھ کر ذبح کریں مردار کی طرح حرام ہے۔تفسیر عزیزی میں اس کی تفصیل ہے پہلا سیپارہ۔(۲۱)۔بابی اور اہل بہا دائرہ اسلام سے خارج ہیں کافر ہیں۔سود لینا، شراب پینا، تولّٰی کفار کو حلال جانتے ہیں۔بسم اللہ سے ان کی ضد ہے۔صفات الٰہیہ کے منکر۔غیب الغیب خدا کا نام کوئی نہیں ہے۔خود خدائی کا دعویٰ بہاء اللہ کے الفاظ میں موجود ہے۔وحی کیا پس وہ فرعون تھا۔الوہیت کے مدعی کو مفتری والی سزا نہیں ملتی۔محمد علی مدعی ہوا تو جلدی ہی ناکام مرا۔بہاء اللہ کا دعویٰ ۴۰ سالہ ثابت نہیں ہے۔صداقت کا یہ نشان ہر ایک باطل پرست میں موجود ہے۔ایسا شخص جو حضرت اقدس کے دعویٰ مسیح یا مہدی وغیرہ کا منکر ہے گو بزرگ ہے منافق ہے۔(۲۳)۔غیر اللہ سے استمداد۔سماع پر موقوف ہے جو موتیٰ کو پہلے پہلے تو بوجہ تعلق بقیہ بدنیا ہوتا ہے اور پھر بعد از مدت بند ہوجاتا ہے۔اِ (الروم: ۵۳) احادیث میں سماع موتیٰ پہلی حالت والا ہے۔(۲۴)۔نماز عصر میں نوافل پڑھنے میں اختیار ہے۔(۲۵)۔عدت میں نکاح باطل ہے۔(۲۶)۔لَا نِکَاحَ اِلَّا بِوَلِیٍّ وَ لَاسِیَّمَا فِی الصَّغِیْرَۃِ۔