ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 377
رحمت اور خاص فیضان اور خاص خاص مدارج علویہ کے حصول کی دعامانگتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو شخص رسول اللہ پر درود ایک بار بھیجتا ہے، خدا اس پر کئی بار رحمت نازل کرتا ہے۔خدا کی رحمت کیا ہے؟ وہی ہدایت ہے۔ہر مشکل سے نکل جانا بھی ہدایت ہے۔خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی۔غرض یہ خدا کا وعدہ ہے جو کبھی نہیں ٹلتا۔مثنوی میں ایک طوطے کا قصہ یوں درج ہے کہ ایک طوطا ایک تاجر کے پاس تھا۔تاجر تجارت کی غرض سے ہندوستان جانے لگا تو اس طوطے نے تاجر سے عرض کیا کہ آپ میرا سلام ہند کے طوطوں کو پہنچا دینا۔چنانچہ وہ تاجر جب ہندوستان میں آیا اور اس نے طوطے کا سلام طوطوں کو پہنچایا۔تو ان میں سے ایک طوطا تڑپ تڑپ کر زمین پر گر گیااور ایسا دکھائی دیا کہ گویا مر گیا ہے۔تاجر جب سفر سے واپس آیا تو طوطے نے اس سے اپنے سلا م کا حال دریافت کیا۔تاجر نے اپنا سارا ماجرابیان کیا۔تو وہ طوطا بھی ایسا تڑپا اور گردن ڈال دی کہ گویا مر گیا۔مالک کو رنج ہوا۔اس نے مردہ جان کرپنجرے میں سے نکال کر باہر پھینک دیا، طوطا اڑکر درخت پر جابیٹھا۔مالک نے حیران ہو کر پوچھا یہ کیا؟ تو پھر طوطے نے جواب دیا کہ اصل میں میرا سلام یہی معنے رکھتا تھا کہ مجھے کوئی ترکیب بتاؤ جس سے میں اس قید سے رہائی پاسکوں۔تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ بجز موت وارد کرنے کے رہائی ممکن نہیں۔اس طرح ہم بھی جو انبیاء اور عباد اللہ الصالحین پر سلام اور درود بھیجتے ہیں، اس کا بھی یہی منشاء اور ماحصل ہے کہ اے نجات یافتہ روحو!اور خدا کے مقدس مجتبیٰ اور مصطفی لوگو! تم تو نجات یافتہ اور (المائدۃ: ۱۲۰) کے مصداق ہو کر بارگاہ الٰہی میں مقرب بنے ہو۔ہمیں بھی اپنی جانوں کے صدقے کوئی ایسی راہ بتاؤ کہ ہم بھی دنیا کی ان تلخیوں اور گناہوں سے نجات یاب ہو سکیں اور ہمیں اجتبٰی اور اصطفٰی کے مدارج نصیب ہو کر ہم بھی خدائی رضوان کے عرش کے سایہ میں آجاویں۔غرض دعا ہی ایک اعلیٰ ہتھیار ہے جو ہر مشکل سے نجات کی راہ ہے۔جہاں کوئی ہتھیار کارگر