ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 359
امر کا قرآن شریف کے نازل کرنے والے کو ہی اس وقت علم تھا کہ مختلف ممالک میں بوجہ شدت گرمی مختلف حد بلوغ ہیں۔چنانچہ بعض ممالک میں بعض وقت ۲۶ یا ۲۷ برس تک پہنچ کر لڑکے یا لڑکیاں بالغ ہوتے ہیں اور بعض ممالک میں دس بارہ چودہ برس ہی میں بالغ ہو جاتے ہیں۔غرض اگر قرآن کریم کوئی حد مقرر کردیتا تو اس وقت جبکہ ساری دنیا نفس واحد کا حکم رکھتی ہے قابل اعتراض ٹھہرتا ہے۔سبحان اللہ کیا پاک تعلیم ہے۔لڑکیاں عموماً حیض کے بعد اور لڑکے موئے ظہار پیدا ہونے کے بعد بالغ سمجھے جاتے ہیں۔سوال۔اگر کوئی لڑکا ۱۶ برس کا اپنا نکاح کر کے خود ہی حق مہر لکھ دیوے تو کیا وہ قابل ادا ہوگا۔جواب۔فرمایا کہ میری تحقیق میں لڑکی کا بدوں اجازت ولی کے نکاح درست ہی نہیں ہوتا تو پھر ہم سے ایسا مسئلہ کیوں پوچھا جاتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ قرآن شریف میں صاف طور سے حکم ہے کہ (النساء : ۷)۔لڑکوں کے واسطے ایسے امور میں رشد کی شرط رکھی ہے اور پندرہ سولہ برس کے لڑکے ہمارے ایسا رشد کہاں رکھتے ہیں اور پھر بات یہ ہے کہ اب تو یہ مسائل حکام وقت کے اختیار میں ہیں حکام وقت ان کاموں کا فیصلہ کرتے ہیں۔(الحکم جلد ۱۲نمبر ۱۹ مورخہ ۱۴؍ مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۴ ) اطلاع ضروری عبد المحی عرب صاحب کو آج کل دو ضرورتیں درپیش ہیں ایک مکان بنوایا ہے اس کی چھت کے لئے روپیہ کی ضرورت اور دوسری ایک کتاب عربی بول چال تصنیف کی ہے اس کے لیے چھپوائی کے واسطے روپیہ چاہیے اور اشتہار بھی دیا۔مگر صرف تیس درخواستیں آئی ہیں اس کی زبانی معلوم ہوا اور میرے سامنے ایک تجویز کی ہے اور وہ تجویز مجھے پسند ہے اور کار خیر ہے اور تجویز یہ ہے کہ مذکورہ ذیل کتابیں وہ احباب جو ذی وسعت ہیں دس دس روپیہ کی کتابیں پانچ پانچ روپیہ میں دے گا اور محصول ڈاک عرب صاحب کے