ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 357
لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کے سایہ کے نیچے ہوں گے۔منجملہ ان کے دو ایسے آدمی بھی ہوں گے جو اللہ ہی کے لئے محبت کا رشتہ باندھتے ہیں۔جب وہ ملتے ہیں تو اسی پر ملتے ہیں اور جب الگ ہوتے ہیں تو اسی محبت الٰہیہ پر الگ ہوتے ہیں۔سو میں نے چاہا کہ تحابا فی اللّٰہ والے لوگوں میں شامل ہوکر ہم سایہ عرش عظیم کے نیچے آسودگی حاصل کریں۔عرش کا سایہ اِس جہان اور اُس جہان، دنیا و آخرت ہر دو جگہ میں ظہور پاسکتا ہے۔پنجم۔کوئی تدبیر ایسی نکل آوے کہ عربی زبان باہم خصوصاً احمدیوں میں اور عام طور سے تمام مسلمانوں میں رائج ہوجاوے کیونکہ صرف یہی ذریعہ ہے جس سے تمام دنیا کے مسلمان خواہ وہ کسی ملک کے باشندے ہوں باہم سلسلہ اتحاد اور اتفاق کو ترقی دے سکتے ہیں۔دوسرے صرف عربی پر ہی فہم قرآنی اور احادیث رسول ربّانی منحصر ہے۔اس پر کسی خاص صورت میں ملکہ پیدا ہو جاوے جس طرح جسمانی لوگوں نے سکۃ الحدید کے ذریعہ طی الارض کیا ہے اور وہ (الحجر : ۲۲) سے صاف واضح ہوتا ہے۔ششم۔جہاں احباب احمدیہ میں باہمی رنج و کدورت ہو یہ احباب صلح کا موجب ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (الانفال : ۲) اور (الحجرات :۱۱) (النساء : ۱۲۹)۔ہفتم۔ہر عسر و یسر میں باہمی مشوروں اور دعاؤں سے کام لیں مگر مسلمانوں کی کاہلی ہے کہ اب تک قادیان کے احباب نے بھی ان امور میں کسی قدر کسل سے کام لیا ہے اور دور والوں پر کیا شکایت ہوسکتی ہے جو اعتراض مجمع پر ہوتے ہیں، ان کے جوابات کی نقل جہاں جہاں بھیجی گئی تھی ان میں سے صرف سیالکوٹ اور پشاور نے ہی اپنے مفید مشورہ سے امداد دی ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ لاہور سے کوئی جواب نہیں آیا۔اس کے علاوہ میں نے دور دور کے اہل الرائے کو خطوط لکھے ہیں کہ کس طرح عربی تعلیم اور ارشاد کیا معنے ،وعظ کرنے اور تقریر و تحریر کرنے میں ترقی حاصل کرسکتے ہیں؟ اسکندریہ اور مصر تک