ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 34
میں مثلاً مرزا جی کے وعدہ پر براہین احمدیہ کی اشاعت پر (کیوں التوامیںہے حالانکہ مخالفوں کے لئے بار بار اشتہار دئیے گئے کہ وہ براہین کا روپیہ واپس لے لیں اور روپیہ دیا بھی گیا )مثلاً آتھم کی پیشگوئی کہ آیا شرط پوری ہوئی جیسے الہام میں مشروط تھی یا نہ ہوئی۔مثلاً بشیر احمد کے متعلق کہ وہ موعود فرزند ہے حالانکہ وہ موعود حسب الہامات بحمد اللہ موجود ہیں۔مثلاً ان کا خیال کہ مسجد کا روپیہ مسجد پر خرچ ہوا یا نہیں یا معرض التوا میں ہے و غیرہ وغیرہ۔اب تک تو منشی صاحب اپنے گھرمیں خاص خاص احباب کے سامنے بیان فرماتے ہیں اور ان کے احباب بھی فرماتے ہیں کہ ان کی پیشگوئیاں بہ نسبت مرزا جی کے بہت مصفّٰی اور صحیح ہیں مگر جب معاملہ پبلک میں عام طور پر مرزا جی کی طرح پیش ہو تب ظاہر جاوے گا کہ مامورمن اللہ کون ہے؟ عِنْدَ الْاِمْتِحَانِ یُکْرَمُ الرَّجُلُ اَوْ یُھَانُ۔برادرم یادرکھو جو باتیں الہامی طور پر ثابت ہوں۔ان میں اعلیٰ وہی ہیں جو لکھی ہوئی ہم دیکھیں۔قرآن کریم میں اللہ فرماتا ہے۔(الطور : ۴۲) نبی کریم کے مخالفوں پر بھی الزام قائم ہوا ہے کہ اگر ان کے پاس غیب ہے تو اُسے لکھا ہوا پیش کریں۔میرے بھائی! آخر میں آپ کو بڑے زوراور جوش سے نصیحت کرتا ہوں کہ آپ کامل استقلال، کامل بردباری، کامل حوصلہ، اعلیٰ ہمت سے کام لے کر اس وقت ڈپٹی صاحب سے دریافت فرماتے کہ لَیْسَ الْخَبَرُ کَالْمُعَایَنَۃِ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم کتاب التفسیر باب تفسیر سورۃ الاعراف حدیث نمبر ۳۲۵۰)۔ہمیں وہ خط نور الدین کا دکھادیں۔آپ ڈپٹی صاحب اگرچہ راست باز ہیں مگر راستی کا ثبوت دینا راست بازی کے مخالف نہیں۔مولیٰ کریم بھی سچا مولیٰ کا رسول بھی سچا مگر پھر بھی دونوں نے اپنی صداقت کے ثبوت دئیے ہیں۔پس آپ راست باز سہی ہمیں راست بازی کے ثبوت سے محروم نہ فرماویں۔بہرحال اب پھر کوشش کریں شاید اسی ذرہ سی بات میں حق ظاہر ہو جاوے کہ ڈپٹی صاحب اور ان کے منشی صاحب کو یہ خبر دینے والا کیسا راست باز ہے۔ہمیں تو ایسی خبریں ترقیات کا موجب ہیں اور انشاء اللہ بہتوں کے لئے ترقیات کا باعث ہوں گی۔اب آپ ہمت بلند سے کام لیں اور اس خط کو