ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 33 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 33

۴۔اگر وہ الہامات منشی جی کے منجانب اللہ ہوتے تو وہ کسی کے کہنے سے ان کی اشاعت سے کیوں رُکتے کیا ان کو خبر نہیں۔(المائدۃ : ۶۸) کس کتاب کا حکم ہے کیا ان کو خبر نہیں کہ(القلم :۱۰) کون کہتا ہے۔۵۔مرزا صاحب نے منشی جی کو براہ راست خطوط لکھ کر تحریک کی ہے پس اس تحریک کے مقابل نورالدین کا پرائیویٹ خط کیوں زیادہ مؤثر ہوا۔۶۔مرزا صاحب اپنے الہامات اپنی تحقیقات کی اشاعت میں کیسے دلیر ہیں ان کے مخالفوں کو چاہئے تھا کہ مرزا صاحب سے زیادہ دلیر ہوتے کیوں؟وہ لوگ اپنے گمان کیا یقین میں راستباز اور مرزا صاحب نعوذ باللہ مفتری ہیں۔۷۔منشی صاحب نے وعدہ کیا ایفاء نہ کیااور نور الدین کے کہنے سے  (بنی اسرائیل : ۳۵) سے کیوںبے پروائی کی۔۸۔ڈپٹی صاحب اوّل سید اہل بیت دوم دنیا میں معزز عہدہ پر ممتاز میرا دل نہیں پسند کرتا کہ میں مان لوں ایسا بڑا آدمی جھوٹ بولتا ہو۔جھوٹ بولنا بڑے ہی کمینوں کا کام ہے جھوٹا ذلیل ہوتا ہے۔پس مجھے حیرت ہے کہ یہ غیر واقعہ کلمات کہا ں سے نکلے۔۹۔میرے نزدیک مامور من اللہ اور دوسروں میں یہ بھی ایک فرق ہے کہ مامور من اللہ ہمت نہیں ہارتے ، تھکتے نہیں ، ڈرتے نہیں ، گھبراتے نہیں ، مشکلات کے وقت دلیر ہوتے ہیں آخر کامیاب ہوتے ہیں۔دیکھ لو مرزا صاحب نے مخالفوں کے مقابلہ میں کیسے کیسے کام کئے ہیں۔کیا ہمت ہاری ہے نہیں! تھکا ! نہیں ! ڈرا ہے؟ نہیں کیا دلیر نہیں ہوا؟ کیا کامیاب نہیں ہوا ؟ سوچو!!! ۱۰۔وَتِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ اگر منشی صاحب اپنے الہامات اور پیش از وقت اپنی پیشگوئیاں شائع کرتے تو ان کو پتہ لگ جاتا کہ ان پیشگویوں کی اشاعت میں کیا کیا مشکلات آتی ہیں اور پھر ان کو یہ بھی پتہ لگ جاتا کہ جوجو اعتراض انہوں نے مرزا جی پر کئے ہیں کیا وقعت رکھتے