ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 332
(النور: ۵۶) اور فرمایا ہے کہ جو کوئی ان خلفاء کا حکم نہ مانے گا وہ کافر و فاسق ہے۔(النور: ۵۶)۔اور ہم لوگ امام الوقت کو خلیفہ من الخلفاء یقین کرتے ہیں ہاں بہت بڑا خلیفہ۔پس اس کے احکام بعض تو فرض ہوں گے اور بعض نفل بھی۔پھر اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے (المائدۃ:۳) پس ظاہر ہوا کہ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں امداد کرنا شارع کا حکم ہے اقسام امداد میں فرض بھی ہو گی اور نفل بھی۔عام حکم میں جب عمل کرنا ہوگا تو خصوصیت ضرور ہو گی۔اولو الامر اور ابو بکرؓ نے مثلاً جب کوئی خاص حکم دیا ہے تو وہ مخصوص حکم ہوگا نہ عام۔اگر ہم کو کوئی کہے کہ نور الدین! تجھ پر نماز ظہر کی فرض ہے تونور الدین کا یہ جواب کہ عام حکم ہے مجھے خاص حکم دکھا کہ نور الدین کو بالخصوص کہا گیا ہو کہ نورالدین تو نماز ظہر پڑھ۔تو اس طرز پر تمام شریعت باطل ہوجاتی ہے بلکہ یہ اعتراض تو حضرت نبی کریم پر ہوسکتا ہے۔آپ غور کریں اور بہت غور کریں!! یہ سوال اوّل کا جواب ہے۔۲۔قواعد انجمن سیالکوٹ میں نے نہیں دیکھے بدوں ملاحظہ اس پر کوئی رائے نہیں دی جاسکتی۔البتہ تعاون کے ماتحت آپ پتہ لگا سکتے ہیں۔۳۔امداد لنگر، مدرسہ، میگزین وغیرہ کو جو لوگ (المائدۃ: ۳) یقین کرتے ہیں ان پر بعض قسم ضروری اور بعض قسم اچھا اور غیر ضروری ہوگا۔امداد لنگر ان لوگوں کے لیے ہے جو یہاں ہم لوگوں کے نزدیک دین سیکھنے کو آتے ہیں اور ایسے لوگوں کے واسطے قرآنی خاص حکم ہے۔ (البقرۃ: ۲۷۴) پر غور کرو۔مدرسہ و میگزین کی غرض بھی فی سبیل اللہ ہے۔۴۔رسائل کا مسئلہ بعینہ وہی ہے جو پہلے عرض ہوا۔عزیز من! ہم لوگ ان رسائل کو نصرت دین الٰہی یقین کرتے ہیں اور (الصف: ۱۵) کا صریح حکم قرآن مجید میں ہے۔