ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 330 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 330

ہیں کیونکہ اعمال میں توحید بھی داخل ہو سکتی ہے۔پھر سورہ نور میں عائشہ ؓ پر تہمت کنندوں کی نسبت فیصلہ ہے۔(النور: ۱۵) پھر جہاں سود کی ممانعت ہے وہاں سود خوروں کو کہا گیا (البقرۃ : ۲۸۰) اب ان کے خیالی توحید کا پابند صرف سود خوری کے باعث اللہ سے لڑنے والا قرار پایا۔ان کی تیسری آیت کریمہ میں عبادت اللہ کرنے کا ارشاد اور حکم ہے کہ اللہ کے سوا اور کو رب نہ بنائیو اور چوتھی میں ہے اللہ شرک کو نہیں بخشتا۔صاحبان عبادت کرنا توحید کے بہرحال علاوہ ہے اور شرک نہیں بخشتا اگر ترجمہ صحیح ہے تو کیا اللہ کی ہستی کا انکار اور اس کی ہستی کو برا کہنا کیا ملائکہ کو برا کہنا انبیاء و رسل کو برا کہنا عفو ہو سکتا ہے؟ یہ مختصر باتیں ذرہ یاد رکھیں۔اس کے بعد عرض ہے آپ کے پہلے اعتراض کا دوسرا حصہ ہے تزکیہ نفس۔پیارے صاحبان! تزکیہ کو بھی آپ نے مدار نجات ارقام فرمایا ہے اور قرآن کریم سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزکی حضرت نبی کریم ہیں غور کرو (الجمعۃ :۳) اس آیۃ کریمہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یُزَکِّیْ صفت محمد رسول اللہ ﷺ کی ہے اور تاکید ہے (التوبۃ : ۱۱۹) تو بتائیے کیا یہ سب لغو تعلیم ہے۔لَا وَاللّٰہِ۔لَا وَاللّٰہِ۔لَا وَاللّٰہِ۔اَلَّذِیْ بِاِذْنِہٖ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآء ُ وَ الْاَرْضُ صاحبان!اگر آپ انصاف کریں اور ضد و عداوت آپ کے اندر نہیں اور مومن میں نہ ہونا چاہیے تو آپ سنئے قرآن مجید میں نجات اور مدار نجات کا ذکر بھی بالفاظ ظاہر موجود ہے (مریم : ۷۳)۔غور فرمائیے نجات کا موجب تقویٰ ہے اور تقویٰ کا مختصر بیان (البقرۃ : ۱۷۸) میں موجود ہے۔دیکھیے نجات اور مدار نجات صریح میں نے دکھائی ہے امام صاحب نے خود جواب ڈاکٹر کا لکھا ہے باقی آپ کے سوالات مرزا