ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 315
اس میں بھی یہ اشارہ تھا کہ گناہ کی خباثت سے جب انسان بچتا ہے تو اسی طرح کا روحانی چین پاتا ہے۔نماز ،روزہ ، حج ، زکوٰۃ سب ارکان اسلام میں جسمانیت کے ساتھ ساتھ روحانیت کا خیال رکھا ہے اور نادان اس پر اعتراض کرتے ہیں۔مثلاً وضو ظاہری اعضاء کے دھونے کا نام ہے مگر ساتھ ہی دعا سکھلائی ہے اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَہِّرِیْنَ (سنن الترمذی ابواب الطھارۃ باب مایقال بعد الوضوء حدیث نمبر ۵۵) کہ جیسے میں نے ظاہری طہارت کی ہے … مجھے باطنی طہارت بھی عطا کر پھر قبلہ کی طرف منہ کرنے میں یہ تعلیم ہے کہ میں اللہ کے لئے سارے جہان کو پشت دیتا ہوں۔یہی تعلیم رکوع و سجود میں ہے۔وہ تعظیم جو دل میں اللہ تعالیٰ کی ہے وہ جسمانی اعضاء سے ظاہر کی جارہی ہے۔زکوٰۃ روحانی بادشاہ کے حضور ایک نذر ہے اور جان و مال کو فدا کرنے کا ایک ثبوت ہے جیسا کہ ظاہری بادشاہ کے لئے کیا جاتا ہے اور حج کے افعال کو سمجھنے کے لئے اس مثال کو پیش نظر رکھیئے کہ جیسے کوئی مجازی عاشق سن لیتا ہے کہ میرے محبوب کو فلاں مقام پر کسی نے دیکھا تو وہ مجنونانہ وار اپنے لباس وغیرہ سے بے خبر اٹھ کر دوڑتا ہے ایسا ہی یہ اس محبوب لم یزل کے حضور حاضر ہونے کی ایک تعلیم ہے غرض جسمانی سلسلہ کے مقابل ایک روحانی سلسلہ بھی ضرور ہے اور اس کو نہ جاننے کے لئے بعض نادانوں نے اس سوال پر بڑی بحث کی ہے کہ مرکز قویٰ قلب ہے یا دماغ اصل بات فیصلہ کن یہ ہے کہ جسمانی رنگ میں مرکز دماغ ہے کیونکہ تمام حواس کا تعلق دماغ سے ہے اور روحانی رنگ میں مرکز قلب ہے۔انبیاء علیہم لسلام چونکہ روحانیت کی طرف توجہ رکھتے ہیں اس لئے وہ ظاہری نظارہ سے روحانی نظارہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے سراجاً منیراً فرمایا ہے اور آپ سراج منیر کیوں نہ ہوتے جبکہ آپ نے دعا فرمائی اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فَوْقِیْ نُوْرًا وَ شَمَالِیْ نُوْرًا وَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا(یہ بڑی لمبی دعا ہے)خیر جب اس حقیقی سورج نے دیکھا کہ سورج کو گرہن لگ گیا یعنی کچھ ایسے اسباب پیش آگئے جن سے سورج کی روشنی سے اہل زمین مستفید نہیں ہوسکتے تو اس نظارہ سے آپ کا دل بھڑک اٹھا کہ کہیں میرا