ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 314 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 314

ادائیگی نماز کسوف اس لئے یہاں دارالامان میں کسوف شروع ہوتے ہی نماز کی تیاری شروع ہوگئی اور ساڑھے دس کے قریب حکیم الامت سلمہ ربہ نے نماز باجماعت جہری قرأت سے پڑھائی۔پہلی رکعت میں سورہ الم السجدہ پڑھ کر رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھا کر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہہ کر سورہ احقاف پڑھی اور پھر رکوع کیا۔دوسری رکعت میں پہلے سورہ محمد کو پڑھ کر رکوع کیا اور پھر رکوع سے سر اٹھا کر اِنَّا فَتَحْنَا پڑھی اور پھر رکوع کیا۔غرض ہر رکعت میں دو دو رکوع کئے۔اسی طرح زیادہ بھی رکوع کر سکتے ہیں۔یہ نماز ایک گھنٹہ میں ختم ہوئی۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ بعض صحابہ کو اس نماز میں طوالت قراء ت کے سبب غشی ہو جاتی تھی۔جسمانی اور روحانی دو سلسلے اور ان کی باہمی مطابقت نماز ختم ہونے کے بعد مولوی صاحب مکرم نے خطبہ پڑھا جو نہایت ہی لطیف تھا۔آپ نے فرمایا کہ دو کارخانے ہیں جسمانی اور روحانی۔پہلے اپنی حالت کو دیکھو کہ دل سے بات اٹھتی ہے تو ہاتھ اس پر عمل کرتے ہیں جس سے روح و جسم کا تعلق معلوم ہوتا ہے۔غمی و خوشی ایک روحانی کیفیت کا نام ہے مگر اس کا اثر چہرہ پر بھی ظاہر ہوتا ہے کسی سے محبت ہو تو حرکات و سکنات سے اس کا اثر معلوم ہو جاتا ہے۔انبیاء علیہم السلام نے بھی اس نکتہ کو کئی پیرایوں میں بیان کیا۔مثلاً حدیبیہ کے مقام پر جب سہیل آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سَھْلُ الْاَمْرِ (اب یہ معاملہ آسانی سے فیصل ہو جائے گا)دیکھئے بات جسمانی تھی نتیجہ روحانی نکالا۔اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی طرف خیال کرو کہ پاخانے جاتے وقت ایک دعا سکھائی اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخْبْثِ وَ الْخَبَائِث (صحیح البخاری کتاب الوضو ما یقول عند الخلاء حدیث نمبر ۱۴۲)یعنی جیسے پلیدی ظاہری نکالی اسی طرح باطنی نجاست کو بھی نکالنے کی توفیق دے۔پھر جب مومن فارغ ہوجائے تو پڑھے غُفْرَانَکَ(سنن ابن ماجہ کتاب الطھارۃ و سنتھا باب مایقول اذا خرج من الخلاء حدیث نمبر ۳۰۰)